لاہور( رپورٹنگ آن لائن) پاکستان ٹیکس ایڈوائزر زایسوسی ایشن نے کہا ہے کہ پیچیدہ ٹیکس نظام کی وجہ سے محصولات کی وصولی کا حجم بڑھنے کی بجائے سکڑ رہا ہے ،آئی ایم ایف کی رپورٹ میں بھی وفاق کے محصولات اکٹھا کرنے والے ادارے کے کمزور داخلی کنٹرول، فیلڈ دفاتر کے لیے زیادہ خود مختاری اور آئی ٹی شعبے کی ناقص کارکردگی کی نشاندہی کی گئی ہے ۔
ایسوسی ایشن کے صدر میاں عبد الغفار اورجنرل سیکرٹری خواجہ ریاض حسین نے اپنے مشترکہ بیان میں کہا کہ ٹیکس ماہرین گزشتہ کئی سالوں سے ٹیکسیشن کے نظام میں تبدیلی ،اسے آسان بنانے ، ٹیکسز کی شرح اور تعداد میں کمی کے مطالبات پیش کرتے آرہے ہیں لیکن بیورو کریسی اس آواز کو متعلقہ حکمران طبقے تک پہنچنے نہیں دیتی جس کا خمیازہ آج سب بھگت رہے ہیں۔
پاکستان آئی ایم ایف کے ساتھ پروگرام میں اور اس نے بھی واضح طور پر ٹیکس پالیسی کو سادہ بنانے اور ایف بی آر کے سٹرکچر کی دوبارہ تشکیل پر زور دیا ہے۔انہوںنے کہا کہ حکومت سے مطالبہ ہے کہ ٹیکسز کی تعداد اور شرح کم کرنے کے حوالے سے پائلٹ پراجیکٹ شروع کر کے تجربہ کرے اگر یہ کامیاب ہو جائے تو اسے ملک میں توسیع دیدی جائے بصورت دیگر اپنی پالیسی جاری رکھی جائے۔









