بیجنگ (رپورٹنگ آن لائن) چھبیس سال پرانی ایک نیکی کو اس ابتدائی موسمِ گرما میں بحرالکاہل کے اُس پار سے جواب ملا۔ جب ریگستان میں شجرکاری میں نمایاں کردار ادا کرنے والی خاتون این یو جن اور امریکی دوست ڈونلڈ ساکولسکی کے درمیان ویڈیو کے ذریعے دوبارہ ورچول ملاقات ہوئی تو بے شمار لوگ متاثر ہوئے۔ اس “آن لائن ملاقات” نے لوگوں کے دلوں کو اس لیے چھو لیا کہ نیکی کبھی رائیگاں نہیں جاتی اور اعتماد بالآخر جنگل کی صورت اختیار کر لیتا ہے۔
یاد رہے کہ سنہ 1999 میں، چین میں تدریس کے شعبے سے وابستہ امریکی استاد ساکولسکی نے اتفاقاً ٹی وی پر ماؤوسو ریگستان میں صحرا زدگی کو روکنے کے لئے ا یِن یوجن کی شجر کاری کی کہانی دیکھی ۔ اسکرین پر اس کمزور عورت کے صحرا میں پودے لگانے کے حوصلے نے انھیں بہت متاثر کیا ۔ انہوں نے فیصلہ کیا کہ کچھ کرنا چاہیے۔ اسی سال اکتوبر میں، ساکولسکی نے امریکہ کی متعدد تنظیموں کو ای میلز بھیج کر عطیات جمع کرنا شروع کیے اور آخرکار بوسٹن کے ایک ادارے سے 5000 ڈالرز جمع کر لیے۔
این یوجن نے یہ پانچ ہزار امریکی ڈالر پودے خریدنے پر خرچ کیے ۔سال 2000 کی بہار میں، ساکو لسکی خصوصی طور پر ماؤ وسو ریگستان میں ان سے ملاقات کے لئے آئے۔ اُس وقت ریگستان میں ہر طرف ریت اڑ رہی تھی۔ انہوں نے این یوجن کے ہاتھ میں کدال اور بیلچے جیسے سادہ آلات دیکھ کر بارہا کہا کہ یہ کام آخر کیسے ممکن ہو سکتا ہے۔ لیکن این یوجن کے دل میں موجود عزم اس سے کہیں زیادہ مضبوط تھا۔ انہوں نے ایک اینٹ پر “ساکولسکی” کا نام کندہ کیا اور اسے زمین میں نصب کر دیا۔ یہ صرف یادگار ہی نہیں بلکہ ایک عہد اور وعدے کی علامت بھی تھی۔
26 سال بعد، وعدہ پورا ہو گیا ۔ اُس وقت کے 5000 امریکی ڈالر کا عطیہ اب 50,000 سے زائد اونچے درختوں کی شکل میں تبدیل ہو چکا ہے، ان میں سے بعض درخت بیس میٹر سے بھی زیادہ بلند ہیں اور ان کے تنے اتنے موٹے ہو چکے ہیں کہ ایک شخص انہیں اپنے بازوؤں میں نہیں سمیٹ سکتا ۔ا ین یوجن کی قیادت میں، آس پاس کے 70,000 مو سے زائد ریتلے علاقوں کی بحالی کی گئی اور 08 لاکھ سے زائد درخت لگائے گئے۔ ووشن کاونٹی کی حدود میں ماؤ وسو صحرا کی بحالی کی شرح 85 فیصد تک پہنچ گئی اور جنگلاتی رقبہ 32.92 فیصد تک بڑھ گیا ۔
اس طرح کے عالمی دوستانہ تعلقات کا مطلب صحراؤں کی بحالی سے کہیں زیادہ ہے۔ جس طرح چینی وزارت خارجہ کی ترجمان ماؤ ننگ نے کہا” یہ عالمی دوستانہ تعلقات، چین اور امریکہ کے عوامی دوستانہ تبادلے کی ایک زندہ عکاسی ہے۔” جیسا کہ صدر شی جن پھںگ نے بھی اس طرف اشارہ کیا کہ “چین-امریکہ تعلقات کی کہانی عوام نے لکھی ہے”۔ ایسے وقت میں جب دونوں ممالک کے تعلقات مختلف مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں، این یوجن اور ساکولسکی کی کہانی تازہ ہوا کے جھونکے کی مانند محسوس ہوتی ہے، جو لوگوں کو یاد دلاتی ہے کہ ریاستی تعلقات کی بنیاد عوام ہوتے ہیں اور ان کی حقیقی قوت بھی عوام ہی سے جنم لیتی ہے۔
پانچ ہزار امریکی ڈالر کا پچاس ہزار درختوں میں تبدیل ہو جانا دراصل اعتماد اور ثابت قدمی کی ایک غیر معمولی داستان ہے۔ ساکولسکی نے عطیہ دیتے وقت این یوجن سے کوئی باقاعدہ تصدیق تک نہیں کی تھی، جبکہ این یوجن کو رقم ملنے کے بعد سب سے پہلے یہی خیال آیا کہ انہیں درخت اچھی طرح لگانے ہیں اور اس اعتماد کو ہرگز ٹھیس نہیں پہنچنے دینی۔ زبان، قومیت اور ثقافت کی سرحدوں سے بالاتر یہ باہمی اعتماد انسانیت کے سب سے قیمتی جذباتی رشتوں میں شمار ہوتا ہے۔
آج ساکولسکی امریکہ کی ریاست پنسلوینیا کے ایک ہائی اسکول سے ریٹائر ہو چکے ہیں اور اس سال ان کی عمر انہتر برس ہے۔ انہوں نے ویڈیو کال کے دوران این یوجن سے کہا: “میں تمہارے پاس آ کر ایک درخت لگانا چاہتا ہوں۔” این یوجن نے مسکراتے ہوئے جواب دیا: “میں صحرا میں تمہارا انتظار کر رہی ہوں۔” دونوں نے اس سال گرمیوں اور خزاں کے موسم میں ماؤ وسو ریگستان میں مل کر “دوستی کا درخت” لگانے کا وعدہ کیا ہے۔
جب ہم اس سرحدوں سے ماورا نیکی اور دوستی کو سراہتے ہیں تو درحقیقت ہم صرف ایک خوبصورت داستان کی تعریف نہیں کر رہے ہوتے، بلکہ ایک ایسے یقین کو خراجِ تحسین پیش کر رہے ہوتے ہیں جو ہمیں یہ باور کراتا ہے کہ نیک نیتی تعصبات کو شکست دے سکتی ہے، تعاون رکاوٹوں پر قابو پا سکتا ہے اور عام لوگ بھی غیر معمولی تاریخ رقم کر سکتے ہیں۔
آج ماؤ وسو ریگستان میں پچاس ہزار سے زائد تناور درخت اپنی جڑیں مضبوطی سے جما چکے ہیں۔ وہ ہوا اور ریت کے طوفانوں سے بے خوف، پوری شان کے ساتھ کھڑے ہیں۔ امید کی جاتی ہے کہ چین اور امریکہ کے عوام کے درمیان ایسے مزید “دوستی کے درخت” لگائے جائیں گے۔ جب ہزاروں دوستیوں کے یہ درخت گھنے جنگلات میں تبدیل ہوں گے تو ایک ایسا مضبوط اور پائیدار ماحول وجود میں آئے گا جو نہ صرف چین اور امریکہ جیسی دو عظیم اقوام کے لیے بلکہ پوری انسانیت کے لیے ایک روشن اور خوبصورت مستقبل کی نوید بنے گا۔









