لاہور ہائیکورٹ 164

پہلی بیوی سے اولادنہ ہونے سے اس کی اجازت کے بغیردوسری شادی کاکوئی جواز نہیں،لاہور ہائی کورٹ

لاہور (رپورٹنگ آن لائن ) لاہور ہائی کورٹ نے کیس میں ریمارکس دیے کہ پہلی بیوی سے اولاد نہ ہونے سے اس کی اجازت کے بغیر دوسری شادی کا کوئی جواز نہیں۔ لاہور ہائی کورٹ میں پہلی بیوی کی اجازت کے بغیر دوسری شادی کرنے پر گرفتارشوہر کی سزا کے خلاف اپیل پرسماعت ہوئی۔

لاہور ہائی کورٹ کی جسٹس مس عالیہ نیلم نے غلام حسین کی سزا کے خلاف اپیل پرسماعت کی۔ عدالت نے وکیل کو پہلی بیوی کی اجازت کے بغیر دوسری شادی کرنے کے بارے میں سپریم کورٹ کا متعلقہ فیصلہ پیش کرنے کا حکم دے دیا۔ دورانِ سماعت جسٹس مس عالیہ نیلم نے ریمارکس میں کہا کہ بتائیں کہ ماتحت عدالت نے ملزم کو سزا دیتے ہوئے کون سی ملزم کی شہادت کو نظر انداز کیا گیا۔

سیشن کورٹ نے اپیل خارج کی، اس عدالتی فیصلے میں کیا کیا خامی ہے؟ وہ بتائیں۔ وکیل درخواست گزار نے عدالت کو بتایا کہ پہلی بیوی نے طلاق کے تین ماہ بعد ملزم کے خلاف فیملی ایکٹ کے تحت استغاثہ دائر کیا۔ عدالت نے ریمارکس دیے کہ جس دن ملزم نے طلاق دی اسی دن درخواست گزار نے شادی کی۔ وکیل نے دلائل میں موقف پیش کیا کہ پہلی بیوی نیلم امتیاز سے اولاد نہ ہونے کی وجہ سے کلثوم بی بی سے شادی کی جس پرجسٹس عالیہ نیلم نے ریمارکس دیے کہ پہلی بیوی سے اولاد نہ ہونے سے اس کی اجازت کے بغیر دوسری شادی کا کوئی جواز نہیں۔

وکیل نے دلائل دیے کہ فیملی کورٹ کیس سن کر ملزم کو سزا دے سکتی ہے، مجسٹریٹ کے پاس فیملی ایکٹ کے تحت سزا دینے کا اختیار نہیں۔ لاہور ہائی کورٹ کا اسی نوعیت پر فیصلہ موجود ہے۔ جسٹس عالیہ نیلم نے ریمارکس دیے کہ سپریم کورٹ نے کس قانونی نقطے کے بارے میں فیصلہ دیا ہے ،وہ پیش کریں۔درخواست گزار کے وکیل نے کیس کی تیاری اور سپریم کورٹ کا فیصلہ پیش کرنے کے لیے مہلت مانگ لی۔عدالت نے درخواست گزار وکیل کو تیاری کے لیے مزید مہلت دیتے ہوئے سماعت ملتوی کر دی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں