پوسٹ ٹرانزکشن 416

پوسٹ ٹرانزکشن ڈاک، DBAs کی آمدن کا ذریعہ بن گئی

رپورٹنگ آن لائن۔

ایکسائز ٹیکسیشن اینڈ نارکوٹکس کنٹرول ڈیپارٹمنٹ پنجاب کا ری ویپمڈ کمپیوٹر سسٹم سے ایک طرف ملازمین اور عوام الناس کو پریشانی کا سامنا یے تو دوسری طرف یہ نظام بعض ملازمین کے لئے ناجائز آمدن کا ذریعہ بن گیا ہے۔

ذرائع کے مطابق لاہور میں محکمے کے DBAs (ڈیٹابیسایڈمنسٹریٹرز) نے پوسٹ ٹرانزکشن کی ڈاک مخصوص انسپکٹروں کے لاگ ان پر لینڈ کرنا شروع کررکھی ہے۔

جس سے بعض انسپکٹروں کے پاس سینکڑوں کی تعداد میں ڈاک لینڈ کرتی یے تو بعض انسپکٹروں کے فیز پر گنتی کے چند کیس ہی لینڈ کرتے ہیں۔

بعض انسپکٹروں نے نام سامنے نہ لانے کی درخواست پر بتایا کہ ڈی بی ایز نے ری ویپمڈ نظام کے تحت منڈی لگا رکھی ہے اور جو انسپکٹر رشوت دیتا یے اسے زیادہ ڈاک ملتی ہے۔جبکہ رشوت نہ دینے والے انسپکٹر ہاتھ پے ہاتھ دھرے بیٹھے رہتے ہیں۔

اس سلسلے میں گفتگو کرتے ہوئے ڈی بی اے نجف اقبال کا کہنا تھا کہ یہ بات درست ہے کہ بعض انسپکٹروں کے فیز پر زیادہ ڈاک آرہی ہے لیکن اس میں رشوت لینے کا الزام غلط ہے یہ ایشو پی آئی ٹی بی کے اینڈ پر آرہا ہے جسے جلد حل کرلیا جائیگا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں