جنسی تشدد 146

پنجاب میں ہر گھنٹے میں ایک عورت جنسی تشدد اور ہراسمنٹ کا شکار۔مریم بی بی کے لئے چیلنج۔

شہبازاکمل جندران۔

پنجاب کی پہلی خاتون وزیر اعلٰی مریم نواز کے لئے دیگر بہت سے چیلنجز میں ایک چیلنج صوبے میں خواتین کی حق تلفی اور ان کے خلاف جنسی، جسمانی اور ذہنی تشدد اور ہراسمنٹ کو روکنا ہے۔

سرکاری اعدادوشمار کے مطابق پنجاب میں ہر ایک گھنٹے کے دوران ایک خاتون کو جنسی ہراسیگی اور جنسی تشدد کا نشانہ بنایا جاتا یے۔

خیال رہے کہ یہ اعدادوشمار سرکاری اور پاکستان پینل کوڈ کے سیکشن 509 اور سیکشن 354 کے تحت رجسٹرڈ ہونے والے مقدمات پر مبنی ہیں۔ان میں ان رجسٹرڈ اور “خاموش” واقعات کو شامل کریں تو تعداد دوگنا سے بھی بڑھ سکتی ہے۔

اعدادوشمار کے مطابق پنجاب میں یکم جنوری 2023 سے 31 دسمبر 2023 تک مجموعی طورپر ایک سال کے دوران 10 ہزار 201 خواتین کو جنسی ہراساں کر نے پر تعزیرات پاکستان کی دفعہ 509 اور جنسی تشدد کرنے پر دفعہ 354 کے تحت مقدمات درج کئے گئے۔

اگرچہ صوبے میں ورک پلیس پر جنسی ہراسمنٹ اور گھر کے اندر یا باہر خواتین پر جنسی تشدد کے خلاف قوانین موجود ہیں لیکن اس کے باوجود ہر ایک گھنٹے میں ایک رپورٹڈ اور رجسٹرڈ واقعہ اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ معاشرہ خواتین کے لئے مطلوبہ تحفظ فراہم کرنے میں ناکام رہا ہے اور پہلی خاتون وزیر اعلٰی کو صوبے میں خواتین کے لئے مطلوبہ معاشرہ قائم کرنے میں بہت محنت کرنا ہوگی اور چیلنجز کا سامنا کرنا پڑیگا

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں