حنا بیات 22

پردہ کرنے والی خواتین کو زیادہ ہراسانی کا سامنا ہوتا ہے، حنا بیات کا انکشاف

ِکراچی (رپورٹنگ آن لائن)پاکستانی شوبز انڈسٹری کی سینئر اداکارہ اور میزبان حنا بیات نے معاشرے میں خواتین کو ہراسانی کا سامنا کرنے کے معاملے پر آواز اٹھاتے ہوئے کہا ہے کہ خواتین صرف گھروں سے باہر ہی نہیں بلکہ اپنے گھروں اور خاندانوں میں بھی محفوظ نہیں ہیں۔

حال ہی میں اداکارہ نے ایک مارننگ شو میں شرکت کی، جہاں انہوں نے مشرقی معاشروں میں مشترکہ اور بڑے خاندانی نظام کے اندر خواتین کو ہراسانی کا سامنا کرنے کے واقعات پر گفتگو کی۔حنا بیات کا کہنا ہے کہ لوگ کہتے ہیں کہ خواتین گھروں سے باہر محفوظ نہیں، لیکن حقیقت یہ ہے کہ خواتین اپنے گھروں میں بھی ہراسانی کا سامنا کرتی ہیں، مشترکہ خاندانوں میں شادی بیاہ اور دیگر تقریبات کے دوران لڑکیاں شرکت کرتی ہیں، جہاں بعض مرد رشتے دار انہیں بری نظر سے دیکھتے اور ہراساں کرتے ہیں۔اداکارہ کے مطابق سب سے پہلے بیٹوں کو خواتین کی عزت کرنا سکھانا ضروری ہے، عزت کا مطلب صرف عورت کو اپنی غیرت یا خاندان کی عزت سمجھنا نہیں بلکہ حقیقی معنوں میں اس کا احترام کرنا ہے، مردوں کو سمجھنا چاہیے کہ معاشرے میں اچھا ماحول پیدا کرنے کے لیے انہیں مہذب رویہ اختیار کرنا ہو گا۔

حنا بیات نے خواتین کے لباس کے حوالے سے بھی کہا ہے کہ انہیں باوقار اور مناسب لباس پہننا چاہیے، جس سے ان کے اعتماد میں اضافہ ہوتا ہے۔اداکارہ نے اپنے ایک سماجی تجربے کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا ہے کہ میں نے ماضی میں 2 لڑکیوں کو مختلف لباس میں بازار بھیج کر معاشرتی رویوں کا جائزہ لیا تھا۔ان کے مطابق پہلے دونوں لڑکیاں عام مشرقی لباس میں بازار گئیں تو بعض لوگوں نے انہیں دیکھا، تاہم کسی نے کوئی نازیبا حرکت نہیں کی،

بعد ازاں جب وہی لڑکیاں دوپٹہ اوڑھ کر بازار گئیں تو انہیں کچھ لوگوں نے چھوا، جبکہ مکمل حجاب میں جانے پر انہیں چھیڑا گیا۔حنا بیات کا کہنا ہے کہ یہ تجربہ میرے لیے بھی حیران کن تھا، بعض مرد یہ سمجھتے ہیں کہ مکمل پردے میں موجود خاتون اپنا دفاع نہیں کر سکے گی، جبکہ عام باوقار لباس میں خواتین کو زیادہ پراعتماد سمجھا جاتا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں