اسلام آباد (رپورٹنگ آن لائن) مسلح افواج نے آپریشن غضب للحق کے تحت 16 مارچ 2026ء کی شب کامیابی کے ساتھ انتہائی درست فضائی حملے کرتے ہوئے کابل اور ننگرہار میں افغان طالبان حکومت کی دہشت گردی کی سرپرستی کرنے والی فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا۔
وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ نے منگل کو سماجی رابطے کے پلیٹ فارم ”ایکس” پر اپنی ایک پوسٹ میں بتایا کہ کابل میں دو مقامات پر موجود تکنیکی معاونت کے بنیادی ڈھانچے اور اسلحہ ذخیرہ کرنے کی سہولیات کو مؤثر انداز میں تباہ کر دیا گیاحملوں کے بعد نظر آنے والے ثانوی دھماکے واضح طور پر بڑے اسلحہ ڈپوؤں کی موجودگی کی نشاندہی کرتے ہیں۔ انہوںنے کہاکہ ننگرہار میں بھی پاکستان کی مسلح افواج نے افغان طالبان حکومت کی دہشت گردی کو سپانسر کرنے والی چار فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں متعلقہ لاجسٹک سہولیات، اسلحہ اور تکنیکی بنیادی ڈھانچہ تباہ ہو گیا،صرف اْن تنصیبات کو ہدف بنایا گیا جو افغان طالبان حکومت اپنی متعدد دہشت گرد پراکسیوں بشمول فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کی حمایت کے لئے استعمال کر رہی ہے جیسا کہ جاری کردہ فوٹیج میں واضح طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔
وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ افغان طالبان حکومت کے پروپیگنڈہ کرنے والوں کے جھوٹے دعوے خطے میں دہشت گردی کی حمایت اور سرپرستی کرنے والے گھنائونے اقدامات سے افغان عوام اور دنیا کو بے وقوف نہیں بنا سکتے۔ انہوںنے کہاکہ ماسٹر ٹیرر پراکسی کی جانب سے مسلط کی گئی دہشت گردی سے پاکستانی شہریوں کو تحفظ فراہم کرنے کے لئے آپریشن غضب للحق کے تحت کارروائیاں اس وقت تک جاری رہیں گی جب تک مطلوبہ مقاصد مکمل طور پر حاصل نہیں ہو جاتے۔









