وزیر خزانہ 61

پاکستان کے پاس توانائی کے ذخائر اور رسد کے مناسب سطح پرانتظامات موجود ہیں،وزیر خزانہ کی برطانوی ہائی کمشنر سے ملاقات میں گفتگو

اسلام آباد (رپورٹنگ آن لائن)وفاقی وزیر خزانہ و محصولات سینیٹر محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ پاکستان کے پاس توانائی کے ذخائر اور رسد کے مناسب سطح پرانتظامات موجود ہیں،وسائل کے دانشمندانہ استعمال کےلئے صوبائی حکومتوں کے ساتھ قریبی رابطہ رکھا جارہا ہے، حکومت بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کے ساتھ پروگرام کے اہداف حاصل کرنے اور ڈھانچہ جاتی اصلاحات کو آگے بڑھانے کے لیے پُرعزم ہے۔ انہوں نے یہ بات جمعرات کو یہاں پاکستان میں برطانوی ہائی کمشنر جین میریٹ سے ملاقات میں کہی ۔

ملاقات میں خطے کی حالیہ پیش رفت، پاکستان کی معاشی صورتحال، جاری اقتصادی اصلاحات اور دوطرفہ اقتصادی تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے امکانات پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔وزیرِ خزانہ نے ہائی کمشنر کو آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ حکومت خطے میں بدلتی ہوئی صورتحال کے ممکنہ معاشی اثرات سے نمٹنے کے لیے پیشگی اقدامات کر رہی ہے،وزیرِ اعظم نے اہم وفاقی وزارتوں اور سٹیٹ بینک آف پاکستان پر مشتمل ایک اعلیٰ سطح کی کمیٹی قائم کی ہے جو روزانہ کی بنیاد پر اہم شعبوں کی صورتحال کا جائزہ لے رہی ہے، خصوصاً توانائی کی فراہمی اور عالمی اجناس کی منڈیوں پر گہری نظر رکھی جا رہی ہے۔ یہ کمیٹی سپلائی چینز، قیمتوں میں اتار چڑھاؤ اور پیٹرولیم مصنوعات، خام تیل، کوئلہ اور گیس کی ممکنہ قلت یا رکاوٹوں کا جائزہ لے رہی ہے جبکہ مہنگائی، بیرونی کھاتوں اور مالیاتی استحکام پر ممکنہ اثرات کا بھی تجزیہ کیا جا رہا ہے۔

وزیرخزانہ نے کہا کہ پاکستان کے پاس اس وقت توانائی کے ذخائر اور سپلائی کے مناسب سطح پرانتظامات موجود ہیں،حکومت ممکنہ حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے مختلف منظرناموں کی منصوبہ بندی اور حساسیت کے تجزیے بھی کر رہی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ توانائی کے مؤثر استعمال کے اقدامات پر بھی غور کیا جا رہا ہے اور صوبائی حکومتوں کے ساتھ قریبی رابطہ رکھا جا رہا ہے تاکہ وسائل کا دانشمندانہ استعمال یقینی بنایا جا سکے اور منڈی میں غیر ضروری خوف و ہراس پیدا نہ ہو۔وزیرِ خزانہ نے پاکستان کے اقتصادی اصلاحات کے جاری پروگرام اور بین الاقوامی مالیاتی فنڈکے ساتھ موجودہ پروگرام کے حوالے سے پیش رفت سے بھی آگاہ کیا۔

انہوں نے کہا کہ حکومت پروگرام کے اہداف حاصل کرنے اورخصوصاً ٹیکس پالیسی، محصولات میں اضافہ، بہتر حکمرانی اور ادارہ جاتی شفافیت کے شعبوں میں ڈھانچہ جاتی اصلاحات کو آگے بڑھانے کے لیے پُرعزم ہے۔ انہوں نے بتایا کہ حکومت کا فوکس ڈیٹا کی بنیاد پر نگرانی اور بہتر تعمیل کے ذریعے ٹیکس نیٹ کو وسیع کرنا ہے، جبکہ مختلف شعبوں کے درمیان منصفانہ نظام کو یقینی بنایا جا رہا ہے۔وزیرِ خزانہ نے کہا کہ پاکستان کے اہم معاشی اشاریوں سے استحکام اور بحالی کی عکاسی ہورہی ہے ،رواں مالی سال کی پہلی سہ ماہی میں اقتصادی ترقی کی شرح 3.7 فیصد رہی جبکہ بڑی صنعتوں کی پیداوار میں بہتری اور زرعی شعبے کی مضبوطی بھی دیکھنے میں آئی ہے۔

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ حکومت اب معاشی استحکام کے مرحلے سے آگے بڑھ کر پائیدار اور جامع ترقی کی طرف بڑھنا چاہتی ہے جبکہ بے روزگاری اور غربت جیسے سماجی مسائل کو بھی حل کرنا اس کی ترجیح ہے۔برطانوی ہائی کمشنر نے حکومت کی اقتصادی اصلاحات کے عزم کو سراہا اور پاکستان میں معاشی استحکام اور طویل المدتی ترقی کے لیے برطانیہ کی مسلسل حمایت کا اعادہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ برطانیہ پاکستان کی ترقی اور معاشی تبدیلی کا ایک مضبوط شراکت دار ہے اور اصلاحاتی اقدامات، نجی شعبے کی شمولیت اور تکنیکی تعاون کے ذریعے تعاون جاری رکھے گا۔

انہوں نےخاص طور پر کان کنی اور معدنی وسائل کے شعبوں میں سرمایہ کاروں کے اعتماد کو فروغ دینے کی اہمیت پر بھی زور دیا۔فریقین نےقدرتی وسائل سے مالا مال علاقوں میں استحکام، اچھی حکمرانی ،پائیدار ترقی کو یقینی بنانے ،بین الاقوامی سرمایہ کاری کو راغب کرنے اور جامع معاشی ترقی کونہایت اہم قرار دینے پر بھی اتفا ق کیا۔وزیرِ خزانہ نے پاکستان میں اصلاحات کی حکمتِ عملی میں برطانیہ کی مسلسل شمولیت اور تعاون کا خیرمقدم کیا۔

انہوں نے اس بات کا اعادہ کیا کہ پاکستان پالیسی کے تسلسل کو برقرار رکھنے، حکمرانی کے نظام کو مضبوط بنانے اور ملکی و غیر ملکی سرمایہ کاری کے لیے سازگار ماحول پیدا کرنے کے لیے پُرعزم ہے۔فریقین نے پاکستان اور برطانیہ کے درمیان اقتصادی تعاون کو مزید فروغ دینے اور معاشی و ترقیاتی ترجیحات پر قریبی رابطہ برقرار رکھنے کے عزم کا اعادہ بھی کیا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں