عالمی بینک 5

پاکستان کی برآمدات صلاحیت سے 60 ارب ڈالر کم ہیں، عالمی بینک

کراچی(رپورٹنگ آن لائن)عالمی بینک نے پاکستان کی برآمدات میں اضافے کیلئے سفارشات دے دیں۔

عالمی بینک کے مطابق پاکستان کی برآمدات صلاحیت سے 60 ارب ڈالر کم ہیں، برآمدات میں اضافہ معاشی استحکام، روزگار، سرمایہ کاری کی ضمانت ہے، برآمدی شعبے کو مضبوط بنا کر پاکستان ترقی کا نیا دورشروع کر سکتا ہے۔رپورٹ میں لچکدار ایکسچینج ریٹ، کاروباری قوانین، ریگولیشنز آسان بنانے پر زور دیا ہے، عالمی بینک نے ایگزیم بینک آف پاکستان کو فعال کرنے کی بھی سفارش کر دی۔

ایگزیم بینک کو فعال کرکے نئی برآمدی فنانسنگ فراہم کی جائے۔عالمی بینک کے مطابق پاکستان کی برآمدات میں اضافے کیلئے پالیسی اصلاحات ناگزیر ہیں، جی ڈی پی میں برآمدات کا حصہ 16 سے کم ہو کر 10 فیصد رہ گیا، 200 سرکاری ادارے نجی شعبے کی کارکردگی متاثر کررہے ہیں۔ رپورٹ میں سرمایہ کاروں کے منافع کی بیرون ملک ترسیل پر رکاوٹیں ختم کرنے پر زور دیا گیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق پاکستان کی برآمدات میں اضافے کیلئے پالیسی اصلاحات ناگزیر ہیں، جی ڈی پی میں برآمدات کا حصہ 16 سے کم ہو کر 10 فیصد رہ گیا، 200 سرکاری ادارے نجی شعبے کی کارکردگی متاثر کررہے ہیں۔ سرمایہ کاروں کے منافع کی بیرون ملک ترسیل پر رکاوٹیں ختم کی جائے۔عالمی بینک کے مطابق پاکستان میں بجلی اور لاجسٹکس مہنگی،ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کمزور ہے، بجلی اور گیس نرخوں میں بروقت ایڈجسٹمنٹ سے لاگت میں کمی ممکن ہے،

برآمدی شعبے کی کمزور کارکردگی نے پائیدار ترقی کی رفتار روک دی، کم برآمدات نے معیشت کو قرض اور کھپت پر انحصار تک محدود کردیا۔زیادہ ٹیرف، سرکاری مداخلت اور ریڈ ٹیپ پیداواری لاگت بڑھا رہے ہیں، ٹیرف ریفارمز پر مکمل عملدرآمد سے پیداواری لاگت کم ہوگی۔

ایف بی آر اور کسٹم نظام کو جدید خطوط پر استوار کیا جائے، افریقا، لاطینی امریکا جسی غیر روایتی منڈیوں سے تعلقات بڑھائے جائیں۔رپورٹ میں سفارش کی گئی ہے کہ تجارتی مذاکرات میں نجی شعبے کی شمولیت بڑھائی جائے، ترجیحی تجارتی معاہدوں کو خدمات اور ڈیجیٹل تجارت تک وسعت دی جائے، تقسیم کار کمپنیوں کی کارکردگی بہتر،ڈیٹا گورننس فریم ورک پر عمل تیز کیا جائے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں