برجیس طاہر 33

پاکستان کسی تجربہ گاہ کا نام نہیں اٹل ایٹمی حقیقت ہے، برجیس طاہر

ننکانہ صاحب(رپورٹنگ آن لائن)پاکستان مسلم لیگ(ن)کے مرکزی نائب صدر، سابق گورنر و وفاقی وزیر چوہدری محمد برجیس طاہر نے پاکستان کی نظریاتی حیثیت اور عالمی سیاست کے بدلتے تناظر پر بات کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کسی تجربہ گاہ کا نام نہیں بلکہ ایک اٹل ایٹمی حقیقت ہے، ایک نظریاتی قلعہ ہے اور اس سچائی کو عالمی طاقتیں نہ چاہتے ہوئے بھی تسلیم کر چکی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ 2025 کی پاک بھارت جنگ نے قائد کے پاکستان کو جدید دفاعی اور اسٹریٹجک حقیقت میں ڈھالا اور اس کا سہرا عسکری اور سیاسی قیادت کے سر ہے۔انہوں نے عالمی حالات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ دنیا اس وقت غیر منصفانہ اور غیر متوازن عالمی ڈھانچے کی طرف دھکیلی جا رہی ہے۔ بڑے طاقتور ممالک کمزور ریاستوں کو معاشی پابندیوں، سفارتی دبا، پراکسی جنگوں اور میڈیا کے ذریعے جھکانے کی کوشش میں ہیں۔

انہوں نے کہا کہ عالمی مفاداتی جنگ میں پاکستان ہمیشہ مرکز میں رہا ہے، اسی لیے دشمن قوتیں پاکستان کو دبا میں رکھنے اور اس کے گرد گھیرا قائم رکھنے کی کوششوں میں مصروف رہیں۔انہوں نے کہا کہ بھارت اسرائیل اور ایک پڑوسی ملک کے ساتھ سفارتی و عسکری گٹھ جوڑ بنا کر پاکستان کو دفاعی، سفارتی اور ابلاغی محاذوں پر نقصان پہنچانے کی کوشش کرتا ہے مگر الحمدللہ ناکامی اس کا مقدر بنتی رہے گی۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جب باہر کی دنیا ہمارے نظریاتی وجود سے خائف ہے تو اندر سے کچھ لوگ ذاتی مفاد کے لیے قومی مفاد کو قربان کر رہے ہیں، اور یہی رویے پاکستان کی بنیادوں کو کمزور کرتے ہیں۔برجیس طاہر نے مزید کہا کہ قوموں کی زندگی میں کچھ وقت فیصلہ کن ہوتے ہیں اور پاکستان آج اسی سنگین موڑ پر کھڑا ہے۔

ایسے میں اگر کسی نے اس ریاست کو بحران کے دہانے سے واپس کھینچا ہے تو وہ میاں محمد نواز شریف ہیں۔انہوں نے کہا کہ نواز شریف نہ صرف ایٹمی دھماکوں کے ذریعے پاکستان کے دفاع کو ناقابلِ تسخیر بنانے والوں میں شامل ہیں بلکہ سی پیک جیسے گیم چینجر منصوبے کے خالق بھی ہیں۔ انہوں نے پاکستان کو موٹرویز، انرجی سسٹم، صنعتی شاہراہیں، جدید انفراسٹرکچر اور باوقار خارجہ پالیسی دی، جسے عالمی سطح پر تسلیم کیا گیا انہوں نے کہا کہ پاکستان کی خارجہ پالیسی، سفارت کاری، معاشی استحکام اور ریاستی وقار کا راستہ نواز شریف کی قومی بصیرت سے جڑا ہوا ہے، اگر پاکستان کو دوبارہ سر اٹھا کر دنیا میں کھڑا کرنا ہے تو ہمیں انتشار نہیں اتحاد، نفرت نہیں بصیرت اور انتقام نہیں حکمت کی ضرورت ہے۔

سابق وفاقی وزیر نے خبردار کرتے ہوئے کہا کہ مستقبل کے چند سال نہ صرف خطے بلکہ دنیا کے سیاسی نقشے کے لیے بھی فیصلہ کن ہیں۔ افغانستان کی بدلتی حیثیت، ایران و عرب بلاک کی نئی صف بندی، چین و روس کی بڑھتی شراکت، بھارت کے جارحانہ عزائم اور اسرائیل کی توسیع پسندانہ حکمت عملی خطے کے توازن کو بدل رہی ہے۔ ایسے ماحول میں پاکستان کو مضبوط سیاسی قیادت، مستحکم خارجہ پالیسی اور قومی یکجہتی کی اشد ضرورت ہے۔انہوں نے کہا کہ ہمیں اندرونی اور بیرونی دشمن کی سازشوں کا ہر فورم پر مقابلہ کرنا ہے، اپنے اندرونی اختلافات ختم کرنے ہیں کیونکہ پاکستان کوئی عام ریاست نہیں بلکہ ایک نظریاتی قلعہ ہے اور اس قلعے کو کمزور کرنے کے خواب کبھی حقیقت نہیں بنیں گے۔

قوموں کی طاقت ان کے ایٹم سے پہلے ان کے عزم اور غیرت میں ہوتی ہے۔انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) پاکستان کی نظریاتی،جمہوری اور ترقی پسند قوت ہے اور نواز شریف کے وژن کے تحت پاکستان دوبارہ استحکام اور ترقی کی شاہراہ پر گامزن ہے۔ انہوں نے کارکنان اور عوام سیکہا کہ دشمن کے مقابل متحد ہو کر وطن کی مضبوطی اور ریاست کے استحکام میں اپنا کردار ادا کریں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں