لاہور()سابق نگران وزیراعظم انوار الحق کاکڑ نے کہا ہے کہ پاکستان کا نظام زمیں بوس نہیں ہوا، اصل مسئلہ کمزور ڈیلیوری سسٹم ہے،شفاف انتخابات ضروری، تاہم صرف الیکشن درست ہونے سے تمام مسائل حل نہیں ہوں گے، گورننس کو سیاسی جماعتوں سے جوڑنا ہوگا۔انہوں نے لاہور میں منعقدہ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ میں اس بات سے اتفاق نہیں کرتا کہ پاکستان کا نظام زمیں بوس ہو چکا ہے تاہم ملک کا ڈیلیوری سسٹم انتہائی کمزور ہے جس میں بہتری لانے کی ضرورت ہے،
احتساب پر مبنی حکومت کو دنیا تسلیم کرتی ہے اور جمہوریت ہی اسے چلا سکتی ہے، ریاست کو سکیورٹی، معاشی استحکام اور بہتر طرز حکمرانی فراہم کرنے کیلئے اپنے نظام کی خامیوں کو دور کرنا ہوگا۔انہوںنے لاہور میں منعقدہ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کو یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ حکمرانی کے عمل میں عوام کو موثر کردار دینا ہے۔ ہمارے ہاں شفاف انتخابات کے حوالے سے شکایات سامنے آتی ہیں تاہم صرف انتخابات کے درست انعقاد سے تمام مسائل حل نہیں ہوں گے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان میں ابھی تک مستحکم جمہوری نظام تشکیل نہیں پا سکا، اس کی وجوہات میں سیاستدانوں اور اسٹیبلشمنٹ سمیت مختلف عوامل کا کردار زیر بحث رہا ہے۔سابق نگران وزیراعظم نے کہا کہ دنیا میں جمہوریت میں منتقلی پر لوگ ایمان کی حد تک یقین رکھتے ہیں، ریاستی نظام کا مقصد عوام کو سکیورٹی، معاشی استحکام اور بنیادی سہولیات فراہم کرنا ہوتا ہے، اس لیے گورننس کے نظام کو سیاسی جماعتوں اور جمہوری عمل کے ساتھ موثر طور پر جوڑنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ سیاسی جماعتیں حکمرانی کے عمل میں اہم کردار ادا کرتی ہیں، اس لیے ان کے اندر بھی جمہوری رویوں اور ادارہ جاتی نظم کو فروغ دینا ضروری ہے۔
شیخ مجیب الرحمن کے حوالے سے انوار الحق کاکڑ نے اپنے خطاب میں کہا کہ وہ انہیں غدار سمجھتے ہیں اور موجودہ حالات میں بلوچستان لبریشن آرمی (بی ایل اے)کو بھی اسی تناظر میں دیکھتے ہیں۔ انہوں نے فتح مکہ کے تاریخی حوالے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ تاریخ میں ایسے افراد بھی گزرے ہیں جنہیں معافی نہیں دی گئی۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں لوگ صرف غربت کی وجہ سے ہتھیار نہیں اٹھاتے بلکہ اس کے پیچھے دیگر عوامل بھی کارفرما ہوتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ریاست کو سکیورٹی، معاشی استحکام اور بہتر طرز حکمرانی فراہم کرنے کیلئے اپنے نظام کی خامیوں کو دور کرنا ہوگا۔









