شہبازاکمل جندران۔۔۔
پاکستان پوسٹ نے انوکھا کارنامہ کرتے ہوئے محکمہ ایکسائز کی حساس ڈاک راجن پور کی بجائے ننکانہ صاحب پہنچا دی۔

ایکسائز ٹیکسیشن اینڈ نارکوٹکس کنٹرول ڈیپارٹمنٹ پنجاب نے صوبے میں گاڑیوں کے رجسٹریشن کارڈ، گاڑیوں کی نمبر پلیٹس اور فائلیں اپنے ضلعی و ڈویژنل دفاتر اور عوام کے گھروں تک پہنچانے کے لئے فروری 2022 میں پاکستان پوسٹ کے ساتھ ایگریمنٹ کیا۔

تاہم پاکستان پوسٹ اس معاہدے پر پورا اترنے میں ناکام دکھائی دیتا ہے۔ایک طرف محکمے سے وصول کردہ ڈاک کی سو فیصد ترسیل و تقسیم عمل میں نہیں لائی جارہی تو دوسری طرف ڈاک غلط مقامات پر پہنچانا یا ڈاک واپس لانا پاکستان پوسٹ کا معمول بن گیا یے۔

پی پی کی طرف سے ایک بڑی لاپرواہی اس وقت سامنے آئی یے جب ایکسائز ڈیپارٹمنٹ کو پتا چلا کہ پی پی نے 100 گاڑیوں کے رجسٹریشن کارڈ غلط پتےپر بھیج دیئے ہیں۔پاکستان پوسٹ نے ایکسائز ڈیپارٹمنٹ کے ڈائیریکٹوریٹ جنرل سے 100 رجسٹریشن کارڈ وصول کرکے راجن پور کی بجائے ننکانہ صاحب پہنچا دئے جہاں سے ای ٹی او ایکسائز محمد ناظم اسد نے یہ کارڈ واپس پاکستان پوسٹ کے حوالے کئے تاکہ راجن پور ڈیلیور کیئے جاسکیں لیکن پاکستان پوسٹ نے مذکورہ 100 رجسٹریشن کارڈ ایکبار پھر راجن پور پہنچانے کی بجائے لاہور میں محکمہ ایکسائز کی ایکسائز برانچ کو وصول کروا دیئے۔حالانکہ مذکورہ برانچ کا ان کارڈز سے دور کا تعلق بھی نہیں تھا۔
یوں راجن پور سے تعلق رکھنے والی 100 چھوٹی بڑی گاڑیوں کے رجسٹریشن کارڈ بدستور کبھی ادھر تو کبھی ادھر گھوم رہے ہیں اور گاڑیوں کے مالکان ان رجسٹریشن کارڈز کے انتظار میں پریشان ہورہے ہیں۔
اور پاکستان پوسٹ کے ساتھ ساتھ ایکسائز ٹیکسیشن اینڈ نارکوٹکس کنٹرول ڈیپارٹمنٹ پنجاب کے ذمہ داران کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگ رہی۔








