اسلام آ باد (رپورٹنگ آن لائن) پاکستان دنیا بھر میں خوردنی تیل کے سب سے بڑے درآمد کنندگان میں سے ایک ہے، ملک میں خوردنی تیل کی درآمد میں اضافہ ہوگیا ،چین اور پاکستان السی کی پیداوار اور پروسیسنگ میں انتہائی ایک دوسرے کے معاون ہیں،پاکستان السی کے وافر وسائل سے مالا مال ہے۔چائنہ اکنامک نیٹکے مطابق میں گانسو اکیڈمی آف ایگریکلچرل سائنسز(جی اے اے ایس) اور سندھ ایگریکلچر یونیورسٹی ٹنڈوجام(ایس اے یو) کی جانب سے چین اور پاکستان کے درمیان فلیکس اسٹڈی ریسرچ اینڈ انوویشن حب کی نقاب کشائی دونوں ممالک کے درمیان زرعی تعاون کو وسعت دے رہی ہے۔
فریقین مختلف اقسام کے انتخاب اور افزائش نسل، کاشت کی ٹیکنالوجی میں بہتری وغیرہ پر مل کر کام کر رہے ہیں، جس کا مقصد خوردنی تیل کے معاملے میں درآمدات پر دونوں ممالک کا انحصار کم کرنا ہے۔ پاکستان دنیا بھر میں خوردنی تیل کے سب سے بڑے درآمد کنندگان میں سے ایک ہے، اور ملک میں خوردنی تیل کی کمی بڑھتی جا رہی ہے۔ اس وقت، اگرچہ چین تقریبا 1 ملین ٹن کی سالانہ پروسیسنگ کی صلاحیت کے ساتھ دنیا کا سب سے بڑا السی کے بیج کا پروسیسر ہے، تقریبا60 فیصدالسی کے بیج درآمد کیے جاتے ہیں۔گانسو اکیڈمی آف ایگریکلچرل سائنسز کے ریسرچ فیلو چاو وے نے چائنا اکنامک نیٹ کو بتایا کہ اس لیے چین اور پاکستان کو مقامی سطح پر السی کی پیداوار بڑھانے میں ایک ہی چیلنج کا سامنا ہے۔ چائنہ اکنامک نیٹ کے مطابق چین اور پاکستان السی کی پیداوار اور پروسیسنگ میں انتہائی ایک دوسرے کے معاون ہیں۔
پاکستان السی کے وافر وسائل سے مالا مال ہے، اور ییلو السی کی نمائندگی کرنے والے زیادہ تر مقامی وسائل چین میں نایاب ہیں۔ تاہم کاشت کی کم ترقی یافتہ ٹیکنالوجی اور فارمنگ مشینری اور بہتر اقسام کی کمی کی وجہ سے پاکستان کی السی کی پیداوار متاثر ہو رہی ہے۔ گانسو چین میں السی کا ایک اہم پیداواری علاقہ ہے ، اور جی اے اے ایس کا کراپ ریسرچ انسٹی ٹیوٹ گھریلو اور بین الاقوامی سطح پر بھی السی کے بیجوں کی افزائش اور پیداوار کی ٹیکنالوجی میں رہنمائی کرتا ہے۔ جی اے اے ایس اور ایس اے یو کے درمیان تعاون دونوں ممالک کے لئے فائدہ مند نتائج لا رہا ہے۔ چائنہ اکنامک نیٹکے مطابق جی اے اے ایس اور ایس اے یو کے درمیان تعاون کی تاریخ 2020 سے ہے۔ اب تک، انہوں نے سرد اور خشک علاقوں میں السی کی کاشت میں درپیش بہت سے مسائل کو حل کیا ہے، اور تنا وکی مزاحمت خاص طور پر السی کی نمک برداشت کو کسی حد تک بہتر بنایا ہے.
ڈاکٹر عبدالغفار نے کوویڈ 19 وبائی مرض کے باوجود السی کی تین چینی اقسام پاکستان لائی تھیں اور پاکستان میں آزمائشی بنیادوں پر کامیابی کے ساتھ کاشت کی گئی ہیں۔ پاکستان سے متعارف کرائی جانے والی السی کی سات اقسام چین میں پیدا کی جا چکی ہیں اور ایس اے یو کے پروفیسر اللہ وادھیا گنڈاہی نے رواں سال جولائی میں مزید دو پاکستانی السی کی اقسام چین پہنچیں۔ چائنہ اکنامک نیٹکے مطابق مستقبل میں چین اور پاکستان کے درمیان فلیکس اسٹڈی ریسرچ اینڈ انوویشن حبمیں سرد علاقوں میں خشک زمین کی فصلوں کی نئی اقسام کا انتخاب اور افزائش،کاشت کی ٹیکنالوجی، پودوں کی غذائیت اور زرعی مشینری ان کے کام کا بنیادی زور ہوگا۔ اس کے ساتھ ساتھ دونوں فریقین کی جانب سے تعلیمی ملاقاتوں، تربیتی سیمینارز، اساتذہ اور طلبہ کے تبادلے اور دوروں کا اہتمام کیا جائے گا۔چائنہ اکنامک نیٹ کے مطابق چاو و ے کی جانب سے انکشاف کیا گیا ہے کہ حب میں ہونے والی تحقیق صرف السی اور السی کے بیجوں تک محدود نہیں ہوگی بلکہ اس میں چارے کے جوار، کپاس اور دیگر اناج بھی شامل ہوں گے۔ جغرافیہ، ماحولیات، ، آب و ہوا وغیرہ میں مماثلت کا اشتراک کرتے ہوئے، شمال مغربی چینی صوبے گانسو اور پاکستان کے درمیان زرعی تعاون بڑھ رہا ہے، جو چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) کی ترقی کے ساتھ ساتھ بڑھنے کے وسیع امکانات کو ظاہر کرتا ہے۔








