سلیم حیدر خان 49

پاکستان عالمی سطح پر امن کے سفیر کے طور پر ابھر رہا ہے، گورنر پنجاب

مکو آ نہ (رپورٹنگ آن لائن)گورنر پنجاب سردار سلیم حیدر خاں نے کہا ہے کہ پاکستان عالمی سطح پر امن کے سفیر کے طور پر ابھر رہا ہے اور ملک جنگ کے بجائے مذاکرات کے ذریعے مسائل کے حل پر یقین رکھتا ہے جبکہ بے گناہ انسانی جانوں کے ضیاع کا خاتمہ وقت کی اہم ضرورت ہے۔وہ اپنے دورہ فیصل آباد کے دوران پاکستان پیپلز پارٹی ویمن ونگ کی ضلعی صدر رخسانہ قمر کے گھر ان کے بیٹے کے انتقال پر فاتحہ خوانی کے بعد میڈیا سے گفتگو کر رہے تھے۔

انہوں نے مرحوم کے انتقال پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری کی ہدایت پر تعزیت کے لیے آئے ہیں اور پارٹی قیادت غمزدہ خاندان کے دکھ میں برابر کی شریک ہے۔گورنر پنجاب نے کہا کہ نوجوان کی موت کے ذمہ دار عناصر کو دنیا اور آخرت میں جوابدہ ہونا پڑے گا۔ انہوں نے کہا کہ صدر آصف علی زرداری، وزیر اعظم شہباز اور عسکری قیادت کی مشترکہ کاوشوں سے پاکستان کو استحکام حاصل ہوا ہے اور آج ملک عالمی سطح پر عزت و وقار کے ساتھ کھڑا ہے۔انہوں نے وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز سمیت اتحادی قیادت کو قومی خدمات پر مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان خطے میں امن کے فروغ کے لیے ڈائیلاگ کا مؤثر کردار ادا کر رہا ہے اور عالمی کشیدگی کے خاتمے کے لیے اس کی کوششیں قابل تحسین ہیں۔

سردار سلیم حیدر خاں نے کہا کہ مقدس مقامات اور ان کے محافظین کے خلاف نامناسب زبان کسی صورت قابل قبول نہیں، امت مسلمہ کو اتحاد و یکجہتی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس معاملے پر آواز اٹھانی چاہیے۔انہوں نے واضح کیا کہ مسلمانوں کے مقدسات کے احترام پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں سرمایہ کاری کے وسیع مواقع موجود ہیں اور سرمایہ کاروں کے لیے سازگار ماحول فراہم کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ جنگی حالات کے خاتمے کے بعد ملک میں سرمایہ کاری کے مواقع مزید بڑھنے کی توقع ہے جبکہ معیشت کی بہتری کے لیے تمام اداروں اور شہریوں کو مشترکہ کردار ادا کرنا ہوگا۔گورنر پنجاب نے واضح کیا کہ اسمبلی کی آئینی مدت پانچ سال ہے اور اسے دس سال کرنے کی باتوں میں کوئی حقیقت نہیں۔

انہوں نے کہا کہ جمہوری نظام میں بروقت انتخابات ہی استحکام کی ضمانت ہیں اور سیاسی جماعتوں کو ذاتی مفادات کے بجائے قومی مفاد کو ترجیح دینی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ جذباتی نعروں کے بجائے سنجیدہ اور ذمہ دارانہ سیاست وقت کی اہم ضرورت ہے اور حقیقی قیادت وہی ہے جو ملک کی بقا اور ترقی کے لیے کام کرے۔انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پاکستان کی سا لمیت اور وقار پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا اور قومی مفاد کے تحت ہمیشہ پاکستان کو مقدم رکھا جائے گا۔

افغانستان کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے انہوں نے محتاط اور ذمہ دارانہ پالیسی اپنانے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے فرمان کا حوالہ دیا اور کہا کہ ”جس سے نیکی کرو، اس کے شر سے بچو” پر عمل ضروری ہے اور دعا کی کہ اللہ تعالیٰ ملک کو ہر قسم کے شر اور فتنوں سے محفوظ رکھے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں