کھمبی 52

پاکستان سمیت دنیا بھر میں کھمبی کی پیداوار 15لاکھ ٹن سے تجاوز کرگئی

مکو آ نہ (رپورٹنگ آن لائن)پاکستان سمیت دنیا بھر میں کھمبی کی پیداوار 15لاکھ ٹن سے تجاوز کرگئی ہے جبکہ کھمبی کے زیر کاشتہ رقبہ میں مسلسل اضافہ ہونے لگاہے نیز کاشتکار کھمبی کوسال میں دومرتبہ مارچ اور اکتوبر میں کاشت کرکے بہترین پیداوار حاصل کرسکتے ہیں۔جامعہ زرعیہ فیصل آباد کے ماہرین زراعت نے بتایاکہ کھمبی کی صحت اور منافع کیلئے جادوئی فصل کو موجودہ زرعی نظام میں غیر روائتی فصلوں اور دیگر غذائی اجناس کے ساتھ شامل کیاجاسکتاہے جو غذائیت کے لحاظ سے بھی شاندار اثر رکھتی ہے مگر پاکستان میں اس کی کاشت کی جانب توجہ نہیں دی جاتی لہٰذاکھمبی کی کاشت کو وسعت دے کر زیادہ سے زیادہ منافع حاصل کیاجاسکتاہے۔

انہوں نے بتایاکہ امریکہ، جاپان، جرمنی، تائیوان اور بعض دیگر ممالک میں کھمبی کمرشل بنیادوں پر کاشت کی جاتی ہے جبکہ پاکستان، ہندوستان، تائیوا ن، تھائی لینڈ اور چین بھی اس کی برآمد سے غیر ملکی زر مبادلہ حاصل کر تے ہیں۔انہوں نے بتایاکہ بہت سی ڈشز کی تیاری میں بھی کھمبیوں کا استعمال کیا جاتاہے جس کے باعث دنیا بھر میں اس کی مقبولیت میں اضافہ ہو رہاہے۔انہوں نے کہاکہ ذائقہ اور غذائیت سے بھر پور سوپ کی تیاری کے علاوہ اسے ٹماٹر،پیاز،سبزیوں اور گوشت کے ساتھ بھی پکایا جا سکتا ہے۔انہوں نے بتایاکہ دنیا بھر میں 15لاکھ ٹن کھمبی کی پیداوار ہو رہی ہے اور اس مقدار میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے۔

انہوں نے کہاکہ بارشوں کے موسم میں کھمبیوں کی ایک بڑی مقدار قدرتی طور پر جنگلوں میں پائی جاتی ہے جس کے دو حصے ہوتے ہیں ان میں بالائی کیپ اور تنا کیپ کی نچلی تہہ پر بڑی تعداد میں بیج پیدا ہوتے ہیں جوکہ گردونواح میں پھیل جاتے ہیں جہاں انہیں ساز گار ماحول دستیاب ہوتا ہے اور وہ اس جگہ پر اگ آتے ہیں۔انہوں نے کہاکہ کھمبیوں کی مختلف اقسام پاکستان میں قدرتی طور پر کئی جگہوں پر پائی جاتی ہیں اور انہیں مقامی طور پر کنڈیر، کھپہ،ہنڈایا، گچھی کے نام دیئے جاتے ہیں۔انہوں نے بتایاکہ پاکستان کے شمالی علاقہ جات میں پائی جانے والی کھمبیوں کو گچھی کا نام دیا جا تا ہے جس کا شمار قدرتی طور پر اگنے والی انتہائی مہنگی کھمبی میں ہوتا ہے جس کو دھوپ میں خشک کر کے بیرون ملک برآمد کیا جا تا ہے۔انہوں نے بتایا کہ ا یک اندازے کے مطابق 90ٹن گچھی پاکستان یورپ کو برآمد کرتا ہے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں