احسن اقبال 61

پاکستان جنگ نہیں چاہتا ،،افغانستان حکومت ہندوستان کا ایجنٹ بننے کی بجائے اپنی پالیسی پر نظرثانی کرے ‘ احسن اقبال

نارووال(رپورٹنگ آن لائن )وفاقی وزیر منصوبہ بندی ،ترقی و خصوصی اقدامات احسن اقبال نے کہا ہے کہ پاکستان قطعی طور پر اپنے ہمسایوں کے ساتھ جنگ نہیں چاہتا ،ہم امید کرتے ہیں کہ افغانستان کی حکومت ہندوستان کا ایجنٹ بننے کی بجائے اپنی پالیسی پر نظرثانی کرے گی،ہمیں اگر اقوام عالم کی صف میں کھڑا ہونا ہے تو ہمیں ریسرچ کے میدان میں آگے آنا ہوگا اور محنت کواپنانا ہوگا۔

انہوں نے ان خیالات کا اظہار سپورٹس جمنیزیم میں نارووال میڈیکل کالج کی وائٹ کوٹ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔احسن اقبال نے کہا کہ میرے لئے یہ خوشی کا مقام ہے کہ آج نارووال میڈیکل کالج کی دوسری وائٹ کوٹ کی تقریب کا انعقاد کیا جارہا ہے۔اگر یہ میڈیکل کالج نہ ہوتا تو کم از کم یہ 100گھرانوں کے بچے شعبہ طب کی تعلیم کے حصول سے پیچھے رہ جاتے۔جس زندگی میں کوئی اعلی مقصد نہ ہو تو زندگی بے مزہ ہوتی ہے ،1993ء میں جب میں نے اپنے سیاسی سفر کا آغاز کیا تو میرے پاس سرمایہ اور بہت بڑی بڑی گاڑیاں نہیں تھیں،میرے پاس صرف اعلی تعلیم ہی تھی۔اس وقت نارووال کے لوگوں نے میری تعلیم کی بنیاد پر میرا انتخاب کیا اور آج میں نے اعلی تعلیم کے بہترین مواقع نارووال میں پیدا کرکے اس قرض کی ادائیگی کردی ہے۔

آج الحمدللہ نارووال کی شناخت نالج ہب کے طور پر بن چکی ہے۔اگر آپ کی زندگی اچھے خواب سے خالی ہے تو آپ کولو کے بیل کی طرح ہی ہیں۔ناممکن کا لفظ آپ کی ڈکشنری میں موجود ہی نہیں ہونا چاہیے ۔نارووال میڈیکل کالج کے قیام کے پیچھے بہت ساری محنت پوشیدہ ہے۔انہوں نے کہا کہ آج امت مسلمہ جس بحران کا شکار ہے اسکی بڑی وجہ یہ ہے کہ ہم آج تحقیق سے دور ہو کر کاپی پیسٹ کی طرف جاچکے ہیں اور خود ریسرچ سے کنارہ کشی اختیار کر چکے ہیں۔آج سارے شعبہ ہائے زندگی میں تمام تر ریسرچ مغرب میں کی جارہی ہے اور ہم اسی ہر اکتفا کیے ہوئے ہیں۔ہمیں اگر اقوام عالم کی صف میں کھڑا ہونا ہے تو ہمیں ریسرچ کے میدان میں آگے آنا ہوگا اور محنت کواپنانا ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ ماہ رمضان میں ہم سب روحانی طور پر اللہ تعالی کی طرف متوجہ ہوتے ہیں ہمیں خود احتسابی کرنی چاہیے ۔اس وقت ہمارے پاس دو راستے ہیں یا تو وہی کریں جو ماضی میں انتشاری سیاست کرتے رہے ہیں اور دوسرا راستہ یہ ہے کہ ہم انتشار کی بجائے امن اور ترقی کی طرف توجہ دیں ،سیاسی انتشاری لانگ مارچ ک بجائے سائنسی انقلاب کی طرف توجہ دیں۔

آج انٹر ڈسپلنری لرننگ کا زمانہ ہے اس لئے ضرورت اس امر کی ہے کہ تمام یونیورسٹیز کے فیویژن کے ذریعے بچوں کو حصول تعلیم کے بے پناہ مواقع فراہم کیے جائیں۔پاکستان قطعی طور پر اپنے ہمسایوں کے ساتھ جنگ نہیں چاہتا مگر افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ گزشتہ 3سالوں سے افغانستان سے ہماری طرف دہشت گردی ایکسپورٹ کی گئی، ہماری مساجد،ہماری امام بارگاہیں،ہمارے کاروباری مراکز اور تعلیمی اداروں تک محفوظ نہیں تھے تب مجبورا ہم نے افغانستان میں موجود دہشت گردوں کے کیمپوں پر حملے کیے اور بدلے میں افغان حکومت نے پاکستان پر باقاعدہ حملے کی مذموم جسارت کی جسے گزشتہ رات ہماری افواج نے اللہ تعالی کی مدد سے پسپا کردیا ہے ،ہم امید کرتے ہیں کہ افغانستان کی حکومت ہندوستان کا ایجنٹ بننے کی بجائے اپنی پالیسی پر نظرثانی کرے گی۔

تقریب میں کالج میں داخلہ لینے والے طلبہ و طالبات اور ان کے والدین کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔تقریب کا مقصد نارووال میڈیکل کالج میں نئے آنے والے طلبہ کو شعبہ طب میں باقاعدہ خوش آمدید کہنا تھااور انہیں پیشہ ورانہ ذمہ داریوں سے آگاہ کرنا تھا۔تقریب کے دوران اساتذہ کرام اور معزز مہمانوں نے طلبہ و طالبات کو سفید کوٹ پہنائے، جو طبی پیشے میں شمولیت، خدمتِ انسانیت اور پیشہ ورانہ عزم کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ اس موقع پر شرکاء نے طلبہ کے روشن مستقبل کے لیے نیک تمنائوں کا اظہار کیا۔تقریب کے اختتام پر نارووال میڈیکل کالج میں داخلہ لینے والے بچوں نے وفاقی وزیر منصوبہ بندی وترقی پروفیسر احسن اقبال چودھری کے ساتھ تصاویر بھی بنوائیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں