لیاقت بلوچ 47

پاکستان افغانستان کشیدگی ختم ہونا چاہیے،لیاقت بلوچ

جنڈانوالا(رپورٹنگ آن لائن)ایران میں رجیم چینج کا خواب دیکھنے والے حملہ آور امریکہ اور اسرائیل واپسی کا راستہ تلاش کررہے ہیں۔ پاکستان افغانستان کشیدگی ختم ہونا چاہیے۔

افغانستان سے خیر کا پیغام نہیں آرہا۔ معاشی بحران میں حکمران اپنے خرچے کم کریں۔ پٹرولیم کے نرخ بڑھانے کی اپنی ہی تجویز مسترد کرنے کا مذاق بند کیا جائے۔ ان خیالات کا اظہار جماعت پاکستان کے مرکزی نائب صدر لیاقت بلوچ نے کیا۔ وہ پٹھان کوٹ کی جامع مسجد میں لیہ اور بھکر کے کارکنان کی 3 روزہ تربیت گاہ سے خطاب کررہے تھے۔ تربیت گاہ کے آخری روز ان کے ہمراہ جماعت اسلامی شمالی پنجاب کے امیر ڈاکٹر طارق سلیم اور جنوبی پنجاب کے امیر سید ذیشان اختر نے بھی خطاب کیا۔ انہوں نے کہا کہ اہل غزہ اور ایران نے تاریخ رقم کی ہے۔ اور اس مزاحمت میں اقوام عالم کے لیے سبق ہے۔

ٹرمپ کی خوشنودی کرنے والوں کو جان لینا چاہیے کی حقیقی کامیابی مزاحمت میں ہے۔ مقررین نے کہا کہ امریکہ پر یہودی لابی کا قبضہ ہے۔ امریکہ اسرائیل کے ہاتھوں یرغمال بن چکا ہے۔ایران نے اسرائیل امریکہ کے حملے کا جواب دے کر ان کے خواب خاک میں ملا دیئے۔ لیاقت بلوچ نے کہا کہ امریکہ عرب ریاستوں کے وسائل کو کھا رہا ہے۔اور انہیں خوف زدہ کررکھا ہے۔ امت مسلمہ کو متحد ہونے کی ضروت ہے۔ لیاقت بلوچ نے کہا کہ افغانستان کی سرزمیں پاکستان میں دہشتگردی کے لیے استعمال نہیں ہونا چاہیے۔ افغانستان سے جو خیر کا پیغام آنے چاہیے تھا وہ نہیں آرہا۔

ایسے میں پاکستان کو اپنی حفاظت کا حق حاصل ہے۔ انہوں نے کہا پاکستان افغانستان کشیدگی ختم ہونا چاہیے۔ جماعت اسلامی پاکستان کے مرکزی نائب امیر لیاقت بلوچ نے کہا 1300 سی سی گاڑیوں کے سرکاری استعمال پر پابندی لگائی جائے۔ مشکل معاشی حالات اور تیل کے بحران میں حکمران عوام پر بوجھ ڈالنے کی بجائے اپنے اخراجات کم کریں۔پٹرولیم مصنوعات کے نرخ بڑھائے جانے اپنی ہی سمری کو مسترد کرنے کا ڈرامہ بند ہونا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت غریب طبقہ سیسال بھر میں 432 ارب روپے صرف پٹرول لیوی ٹیکس کی مدد میں وصول کررہی ہےـ

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں