اسحق ڈار 29

پاکستان اسلاموفوبیا کے تدارک کے لیے عالمی کوششوں کو آگے بڑھانے کیلئے پْرعزم ہے، اسحاق ڈار

اسلام آباد (رپورٹنگ آن لائن)نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ پاکستان اسلاموفوبیا کے تدارک کے لیے عالمی کوششوں کو آگے بڑھانے کے لیے پْرعزم ہے۔اسلاموفوبیا کے خلاف عالمی دن کے موقع پر دفتر خارجہ سے جاری اپنے پیغام میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے کہا کہ اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی ) کے ساتھ قریبی تعاون کے ذریعے پاکستان نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اس تاریخی فیصلے میں اہم کردار ادا کیا جس کے تحت 15 مارچ کو اسلاموفوبیا کے خلاف عالمی دن قرار دیا گیا،

یہ اقدام بین الاقوامی برادری کی جانب سے مذاہب، ثقافتوں اور تہذیبوں کے درمیان ہم آہنگی، برداشت اور پْرامن بقائے باہمی کو فروغ دینے کی کوششوں میں ایک اہم سنگِ میل ثابت ہوا۔انہوں نے کہا کہ پاکستان نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی ایک اور قرارداد کی منظوری میں بھی کلیدی کردار ادا کیا جس کا مقصد اسلاموفوبیا کے تدارک کے لیے عالمی کوششوں کو مضبوط بنانا تھا جس میں اقوام متحدہ کے ایک خصوصی ایلچی کی تقرری کی درخواست بھی شامل تھی۔ اس ضمن میں ہم مئی 2025 میں اسلاموفوبیا کے خلاف اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی کی تقرری کا خیرمقدم کرتے ہیں، اسی طرح مئی 2024 میں او آئی سی کے سیکریٹری جنرل کے اسلاموفوبیا کے خلاف خصوصی ایلچی کی تقرری بھی اس چیلنج سے مربوط اور مستقل انداز میں نمٹنے کے لیے بڑھتے ہوئے عالمی عزم کی عکاسی کرتی ہے۔ اسحاق ڈار نے کہا کہ حالیہ برسوں میں اسلاموفوبیا میں تشویشناک اضافہ دنیا کے مختلف حصوں میں نہایت افسوسناک واقعات کی صورت میں سامنے آیا ہے، جن میں قرآنِ مجید کی بے حرمتی، حجاب پہننے والی خواتین پر حملے، مساجد کی توڑ پھوڑ، مذہبی بنیادوں پر شناخت اور عوامی و میڈیا بیانیے میں کھلے عام مسلمانوں کے خلاف نفرت کا اظہار شامل ہیں، اسلاموفوبیا موجودہ کشیدگیوں اور تنازعات کو مزید بڑھاتا ہے اور ایک ایسا منفی سلسلہ پیدا کرتا ہے جو عالمی امن و سلامتی کے لیے خطرہ بن سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان اسلاموفوبیا کے تدارک کے لیے عالمی کوششوں کو آگے بڑھانے کے لیے پْرعزم ہے اس سلسلے میں ہم او آئی سی کے رکن ممالک اور اسلاموفوبیا کے خلاف اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی کے ساتھ مل کر اقوام متحدہ کے ایک منصوبہ عمل کی تیاری پر کام کر رہے ہیں جو اس مسئلے کو بہتر طور پر سمجھنے، روکنے اور ختم کرنے کے لیے ایک منظم فریم ورک فراہم کرے گا۔بین الاقوامی برادری کو چاہیے کہ وہ اسلاموفوبیا کی مذمت کے لیے متحد ہو اور ان ساختیاتی عوامل کا بھی تدارک کرے جو اس کے فروغ کا سبب بنتے ہیں۔ پاکستان تمام ممالک سے مطالبہ کرتا ہے کہ وہ معاشروں کے درمیان باہمی احترام، مکالمے اور افہام و تفہیم کو فروغ دینے کیلئے مسلسل اقدامات کریں اور برداشت، وقار اور پْرامن بقائے باہمی کی اقدار کو برقرار رکھیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں