اسلام آ باد (رپورٹنگ آن لائن ) وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ پاکستان، وزیر اعظم عمران خان کے وژن کی روشنی میں اقتصادی ترجیحات پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہے،آج بدلتی ہوئی علاقائی صورتحال ہماری خصوصی توجہ کی متقاضی ہے،موجودہ حکومت نے مسئلہ کشمیر کو اقوام متحدہ سمیت تمام عالمی فورمز پر بھرپور انداز میں اجاگر کیا۔
تفصیلات کے طابق وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی کی زیر صدارت وزارت خارجہ میں انسٹیٹیوٹ آف اسٹریٹیجک اسٹڈیز اسلام آباد(ISSI) اور انسٹیٹیوٹ آف ریجنل اسٹڈیز (IRS) کے محققین کا اجلاس ہوا جس میں اسپیشل سیکرٹری خارجہ رضا بشیر تارڑ، ڈائریکٹر جنرل (آئی ایس ایس آئی) ایمبیسڈر اعزاز چوہدری اور صدر انسٹیٹیوٹ آف ریجنل اسٹڈیز، ایمبیسڈر ندیم ریاض اور وزارت خارجہ کے سینئر افسران نے شرکت کی ۔دوران اجلاس خطے میں روابط کے فروغ، کووڈ 19 کے بعد بدلتے ہوئے عالمی منظر نامے اور سفارتی محاذ پر درپیش چیلنجز زیر بحث آئے۔ اس موقع پر وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی آج اس بدلتے ہوئے علاقائی و عالمی منظر نامے میں خارجہ پالیسی کو جدید خطوط پر استوار کرنے میں، تھنک ٹینکس کا کردار انتہائی اہمیت کا حامل ہے، ہمیں خارجہ محاذ پر درپیش چیلنجز کو سامنے رکھتے ہوئے بین عالمی سطح کی تحقیق کو منظرعام پر لانا ہوگا،پاکستان، وزیر اعظم عمران خان کے وژن کی روشنی میں اقتصادی ترجیحات پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہے،آج بدلتی ہوئی علاقائی صورتحال ہماری خصوصی توجہ کی متقاضی ہے،موجودہ حکومت نے مسئلہ کشمیر کو اقوام متحدہ سمیت تمام عالمی فورمز پر بھرپور انداز میں اجاگر کیا،
پاکستان، نے ناقابل تردید شواہد پر مبنی ”ڈوزیر ”کے ذریعے عالمی برادری کی توجہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں جاری انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں اور بھارتی قابض افواج کے مظالم کی جانب مبذول کروائی، مخدوم شاہ محمود قریشی نے کہا افغانستان کی مخدوش معاشی صورتحال کے تناظر میں پاکستان کی جانب سے او آئی سی وزرائے خارجہ کونسل کے غیر معمولی اجلاس کی میزبانی،ہماری اہم سفارتی کامیابی ہے، تیزی سے بدلتے ہوئے، عالمی منظر نامے میں ہمیں،درپیش چیلنجز کا مقابلہ کرنے کیلئے بہترین حکمت عملی وضع کرنا ہو گی،ہم اپنے تحقیقی اداروں کو مزید فعال بنانے اور جدید تقاضوں سے ہم آہنگ بنانے کیلئے ہر ممکن کوششیں اور وسائل بروئے کار لانے کیلئے پر عزم ہیں۔









