کراچی (ر پورٹنگ آن لائن) معروف پاکستانی اداکار حمزہ علی عباسی نے وزیرِاعظم عمران خان کے امریکی ٹی وی کو خواتین کے لباس کے بارے میں دیئے گئے بیان پر قرآن اور سنت کی روشنی میں اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہوں یہ بات مخصوص سیاق و سباق کے حوالے سے کی جوکہ بالکل درست ہے۔حمزہ علی عباسی نے اپنے ایک انٹرویو میں وزیرِاعظم عمران خان کے خواتین کے لباس کے بارے میں دیئے گئے بیان پر کہا ہے کہ قرآن مجید کے مطابق اس حوالے سے مردوں اور عورتوں، دونوں کے لیے الگ احکامات ہیں۔انہوں نے کہا کہ مردوں کے لیے قرآن میں احکامات ہیں کہ عورت نے جو مرضی پہنا ہوا ہو یا وہ جو بھی کر رہی ہے لیکن مرد نے اپنی آنکھ کا حساب دینا ہے اور اپنے رویے کا حساب دینا ہے، اس بات سے قطعہ نظر کہ معاشرے میں کیا ہو رہا ہے یا عورت نے کیسا لباس پہنا ہوا ہے۔
حمزہ علی عباسی نے کہا کہ اسی طرح ایک مسلمان خاتون کو بھی صرف اپنی حیا، اپنی آنکھوں کا، اپنے رویے، اپنے رہن سہن اور لباس کا حساب دینا ہے، اس بات سے قطعہ نظر کہ مرد اس معاشرے میں کیا کر رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ اس سے یہ بات واضح ہے کہ مردوں کا اپنا حساب ہوگا یہ بات کہنا قرآن کے احکامات کے خلاف ہے۔ مرد بے راہ روی کا شکار اس لیے ہو رہے ہیں کیونکہ میرے اردگرد معاشرہ خراب ہے، اس طرح کی وجوہات بیان کرنے سے آخرت میں مرد کو اس کے گناہوں کی معافی نہیں ملے گی۔انہوں نے کہا کہ اسی طرح کوئی خاتون بھی اللہ کے احکامات پر عمل پیرا نہ ہونے پر اس طرح کی وجوہات نہیں دے سکتی کہ وہ جو کچھ کر رہی ہے وہ اس لیے کر رہی ہے کہ معاشرہ خراب ہے، سب کو اپنا حساب دینا ہے۔
حمزہ علی عباسی نے کہا کہ اگر یہاں پر وزیرِاعظم عمران خان کے بیان کے بارے میں بات کریں تو انہوں نے یہ بات مخصوص سیاق و سباق کے حوالے سے کی جوکہ بالکل درست ہے۔انہوں نے کہا کہ آپ عمران خان کا پورا انٹرویو سنیں انہوں نے جس پسِ منظر میں یہ بات کی وہ بالکل ٹھیک ہے، آپ انٹرویو کی صرف ایک لائن پر بات نہیں کریں۔حمزہ علی عباسی نے اپنی بات کا اختتام کرتے ہوئے کہا کہ وہ ہرگز وزیراعظم کی بات کا دفاع نہیں کر رہے لیکن انہوں نے جس پس منظر میں یہ بات کی وہ حقیقت ہے، لیکن اس کا یہ مطلب بھی نہیں ہے کہ کسی معاشرے میں نائٹ کلبز کا موجود ہونا اچھی بات ہے یا ایسی جگہوں کی معاشرے میں غیر موجودگی کے باعث جنسی جرائم کرنا جائز ہے۔









