تل ابیب (رپورٹنگ آن لائن)اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاھو نے سابق برطانوی وزیراعظم اور غزہ کے لیے مجوزہ بین الاقوامی استحکام کمیٹی کے کوآرڈینیٹر ٹونی بلیئر کے ساتھ گذشتہ ہفتے ایک خفیہ ملاقات کی جس میں غزہ کے آئندہ حالات پر بات کی گئی۔
ٹونی بلیئر نے نیتن یاھو کو تجویز پیش کی کہ فلسطینی اتھارٹی غزہ کے کچھ مخصوص علاقوں پر محدود کنٹرول حاصل کرے، تاکہ پہلے تجرباتی طور پر دیکھا جائے کہ یہ انتظام کامیاب ہوتا ہے یا نہیں، اس کے بعد مکمل نفاذ کیا جائے۔اسرائیل نے اس تجویز کو فوری طور پر مسترد نہیں کیا اور اس پر مذاکرات جاری ہیں۔ایک مغربی سفارت کار اور ایک عرب اہلکار نے بتایا کہ توقع ہے کہ سال کے آخر تک ایک بین الاقوامی ادارہ غزہ کے انتظام کے لیے قائم کیا جائے گا۔انہوں نے مزید کہا کہ یہ ادارہ جسے امن کونسل کا نام دیا جاتا ہے۔ اس کی سربراہی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کریں گے،
مشرق وسطی اور مغرب کے تقریبا بارہ دیگر رہنمائوں پر مشتمل ہوگا، تاکہ اقوام متحدہ کے اختیار کے تحت دو سال کے لیے غزہ کا انتظام کرے۔ اس مدت میں توسیع کی جا سکے گی۔یہ بتایا گیا کہ فلسطینی ٹکنوکریٹس کی ایک کمیٹی غزہ کے روزانہ انتظام کی ذمہ داری سنبھالے گی، جو جنگ کے بعد کام کرے گی۔اطلاعات کے مطابق منصوبے کا اعلان سنہ 2025 کے آخر میں ٹرمپ اور اسرائیل کے وزیر اعظم بنجمن نیتن یاھو کی ملاقات کے دوران اعلان کیا جائے گا۔









