لاہور ہائیکورٹ 263

نیب دفتر ہنگامہ آرائی میں ملوث لیگی رہنمائوں کی عبوری ضمانتیں منظور ہونے کا اقدام لاہور ہائیکورٹ میں چیلنج

لاہور( رپورٹنگ آن لائن ) نیب کے دفتر کے باہر ہنگامہ آرائی میں ملوث مسلم لیگ (ن) کے رہنمائوں کی عبوری ضمانتیں منظور ہونے کا اقدام لاہور ہائیکورٹ میں چیلنج کردیاگیا ،پنجاب حکومت نے انسداد دہشتگردی عدالت سے رانا ثنا اللہ ،،کیپٹن (ر)صفدر سمیت دیگر لیگیوں کی عبوری ضمانتوں کی منسوخی کے لئے لاہور ہائیکورٹ سے رجوع کیا۔

حکومت نے بذریعہ پراسیکیوٹرجنرل انسداد دہشتگردی کورٹ کے فیصلے کے خلاف لاہور ہائیکورٹ میں درخواست دائر کی۔جسٹس سید شہباز علی رضوی اور جسٹس اسجد جاوید گھرال پر مشتمل 2رکنی بنچ حکومتی درخواست پر سماعت کرے گا۔پنجاب حکومت کی جانب سے لیگیوں کی ضمانت منسوخی کے لئے لاہور ہائیکورٹ میں دائر درخواست میں موقف اختیار کیاگیا ہے کہ رانا ثنا اللہ ،کیپٹن (ر)محمدصفدر سمیت دیگر کے خلاف نیب آفس کے باہر پتھرائو کا مقدمہ درج کیا گیا ۔

تھانہ چوہنگ میں درج مقدمے میں شامل 7 اے ٹی اے ،440 ناقابل ضمانت ہیں،دوران تفتیش لگائی گئی 11 ایکس دفعہ بھی ناقابل ضمانت ہے ،انسداد دہشتگردی کورٹ نے محکمہ پراسیکیوشن کے موقف کو نظر انداز کرکے ملزمان کی عبوری ضمانتیں کنفرم کیں۔ ضمانت منظور کرتے وقت سپریم کورٹ کے فیصلوں کے اصولوں کو بھی مد نظر نہیں رکھا گیا ۔

درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ سیف سٹی کیمروں ،ٹی وی چینلز پر آنے والی فوٹیجز کی فرانزک سائنس ایجنسی سے فوٹو گرافک شناخت کرنا ہے۔ ملزمان کے جسمانی ریمانڈ حاصل کر کے انہیں فرانزک سائنس ایجنسی سے فوٹوگرافک کروانا مطلوب تھا۔ پراسیکیوٹر جنرل پنجاب کی جانب سے دائر درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ عدالت انسداد دہشت گردی کورٹ کی جانب سے ملزمان کی عبوری ضمانتیں کنفرم کرنے کے اقدام کالعدم قرار دے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں