ڈاکٹر عشرت العباد خان 58

نوجوانوں کے لئے حکومت کا نئے ڈورز اور جدید تعلیم کے مطابق وسائل کی فراہمی نا گزیر ہے،ڈاکٹرعشرت العباد خان

کراچی (رپورٹنگ آن لائن) سابق گورنر سندھ و سربراہ میری پہچان پاکستان ( ایم پی پی ) ڈاکٹر عشرت العباد خان نے کہا ہے کہ نوجوانوں کے لئے حکومت کا نئے ڈورز اور جدید تعلیم کے مطابق وسائل کی فراہمی نا گزیر ہے۔ بیروزگاری مسائل کی جڑ ہے۔ آئی ٹی کے میدان میں انہیں بہترین مواقع دیئے جائیں ۔اصلاحات کے بغیر ملک میں وسائل کی فراہمی ممکن نہیں ۔ پنجاب کی طرح دیگر صوبوں میں بھی جدت پسندی نظر آنی چاہئے۔ گورنر ہائوس سندھ میں آئی ٹی کی مفت تعلیم ہو رہی تھی۔

اسے حکومتیں ہر صوبے میں شروع کریں ۔ عوام کے مفاد میں کئے گئے فیصلے ملک کی ترقی کا ایندھن ثابت ہوں گے۔ انہوں نے یہ بات ڈیری غازی خان ، ساہیوال ، لاہور ، گوجرانوالہ ، گجرات ، سیالکوٹ ، کوٹ ادو، راجن پور سمیت پنجاب کے مختلف شہروں ، گائوں اور اسلام آباد ، پنجاب آرگنائزنگ کمیٹیز ، راولپنڈی کے اندرون شہر اور کراچی میں بیک وقت ویڈیو لنک پر خطاب میں کہی۔ ڈاکٹر عشرت العباد خان نے کہا کہ کفایت شعاری مہم کی وجہ سے صرف ذمہ داران سے بات کر رہا ہوں اسکے بعد انشاء اللہ حالات درست ہوتے ہی عوامی اجتماعات سے خطاب شروع ہوں گے۔

انہوں نے کہا کہ ہم نے عوام کی جڑوں میں جا کر ان کو احساس دلایا ہے کہ یہ پاک وطن ہم سب کے لئے اللہ کی نعمت ہے اسکے خلاف اگر کوئی بات کرتا ہے سوچتا ہے یا مہم سازی کرتا ہے تو وہ ملک دشمن ہے۔ فیلڈ مارشل اور حکومتی سفارت کاری کے نتیجے میں گرین پاسپورٹ کی اہمیت ہو چکی ہے۔ سبز ہلالی پرچم تھام کر پاکستان کے لئے عہد کریں کہ ہم ایمانداری سے کام کریں ۔ لسانی ، فرقہ وارانہ تعصب کا شکار نہیں ہوں گے۔ ملک کی یکجہتی ہی ہماری طاقت اور کارکردگی شرط ہے تب ہم آئی ایم ایف کے قرضوں سے نجات حاصل کریں گے جب نظام بدلے گا اور شرافت سیاست کا معیار ہوگا۔

سیاست سے بلیک میلنگ نکل جائے گی۔ صوبوں نے 18ویں ترمیم سے گراس روٹ لیول پرعوام کو ریلیف نہیں دیا۔ پنجاب میں لوکل گورنمنٹ کے الیکشن نہیں ہوئے ۔ سندھ میں گلا سڑا بلدیاتی نظام ہے جو شہروں کو کھا گیا ہے۔ کراچی کرچی کرچی ہے۔ پانی نایاب ہے۔ سڑکیں بدحال ہیں ۔ وفاق کو 28وین ترمیم کرنی چاہئے ۔ ورنہ پرویز مشرف بلدیاتی نظام کی توثیق کرکے ملک بھر میں نظام نافذ کیا جائے ۔ پورا پاکستان ترقی کرے گا عوامی شرکت اقتدار کا نظام سٹی گورنمنٹ نظام تھا جہاں سی سی بی (Citizen Community Board)تھے جہاں عوام اپنی زمین دے کر کمیونٹی ہال اور سڑکوں سمیت اپنے علاقے کے مسائل حل کرتے تھے۔ سیوریج لائنیں خود ڈالوائیں ۔ ہم چاہتے ہیں کہ عوام کو انکا حق انکی دہلیز پر ملے ۔

عوام کی اقتدار میں شراکت داری ہو۔ اس نظام میں اگر کچھ خرابیاں تھیں تو درست کی جا سکتی ہیں۔ہم خدمت اور ملک کی ترقی کے لئے وفاق ، صوبہ اور لوکل گورنمنٹ کو تھری پلرز بنا کر ترقی کی تمام کاوشیں کرسکتے ہیں ۔ میں نے اپنے گورنری کے دور میں پلر کا کردار زادا کیا ۔ 2010میں کراچی بین الاقومی شہر اور ترقی یافتہ شہر تھا ۔ جہاں نمائندے کہتے تھے کہیں کام رہ گیا ہے تو بتائیں ۔ آج وہ شہر کھنڈرات میں بدل گیا ہے۔ پاکستان کا ہر شہر ہر دیہات ، گائوں ترقی کے لئے حکمرانوں کی گڈ گورننس کا منتظر ہے ۔

یہ تاثر کہ جمہوری حکومتیں عوام کو ریلیف نہیں دیتیں آمرانہ دور میں بلدیاتی نظام کامیاب ہوتا ہے اسے وفاق ترمیم کرکے جمہوری حکومتوں کے لئے مثال بنائے۔ پاکستان کی تمام اکائیوں کو حضور اکرم ۖ کے آخری خطبے کے مطابق کہ کالے کو گورے پر گورے کو کالے پر کوئی فوقیت نہیں ہے۔ ایک لڑوئی میں پرونے کا کام ہم کر رہے ہیں ۔ میری پہچان پاکستان ایک سوچ اور وطن پرستی کا جنون ہے جو کامیابی کی کنجی ہے۔ اپنے ملک پر فخر کریں یہ دنیا میں اہم ترین اسلامی ملک ہے ہمیں آزاد اور زندہ قوم بن کر ملک کی بنیادوں کو مضبوط تر کرنا ہے۔ اپنی افواج کے شانہ بشانہ چل کر ہر ملک دشمن فتنے کے خلاف ہر اول دستہ بن کر ملک کا نام روشن کرنا ہے ۔ انہوں نے ہدایت کی کہ مرکزی کمیٹی آن لائن ہر شہر اور دیہات ،قصبے میں اجلاس منعقد کریں ۔ ہم عوام کی آواز بنیں اور پاکستان کی ترقی کے لئے کلیدی کردار ادا کریں ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں