میڈیکل انسٹیٹیوٹ 99

میڈیکل سٹوڈنٹس کے ساتھ اساتذہ کو بھی جدید ٹیکنالوجی سے خود کو ہم آہنگ کرنا ہوگا:پروفیسر فاروق افضل

لاہور(رپورٹنگ آن لائن) پرنسپل امیر الدین میڈیکل کالج و پوسٹ گریجویٹ میڈیکل انسٹیٹیوٹ (پی جی ایم آئی) پروفیسر ڈاکٹر فاروق افضل نے کہا ہے کہ مصنوعی ذہانت، ڈیجیٹل ہیلتھ اور تحقیق پر مبنی جدید تدریسی ماڈلز طبی تعلیم کو ایسے نئے دور میں لے جا چکے ہیں جہاں اساتذہ اور طلبہ کے لیے مسلسل سیکھنا اور عالمی تقاضوں سے ہم آہنگ رہنا ناگزیر ہو چکا ہے۔

پی جی ایم آئی کے فارغ التحصیل ڈاکٹرز آج دنیا بھر میں طبی تعلیم اور انسانیت کی خدمت کی روشنی پھیلا رہے ہیں جو اس ادارے کے اعلیٰ تعلیمی معیار کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے پی جی ایم آئی میں ”نوجوان ڈاکٹرز کے لیے تحقیق اور طبی تعلیم کی مضبوطی” کے عنوان سے منعقدہ سیمینار کے دوران میڈیکل ایجوکیشن کے بدلتے ہوئے طریقہ کارپر خصوصی خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر پروفیسر ندرت سہیل، پروفیسر شندانہ طارق، پروفیسر طیبہ گل ملک، پروفیسر امنہ احسن چیمہ اور پروفیسر فرحان رشید نے بھی خطاب کیا اور جدید طبی تعلیم کی ضرورت پر زور دیا۔سیمینار میں نوجوان ڈاکٹرز کی کثیر تعداد موجود تھی۔

پروفیسر فاروق افضل نے واضح کیا کہ طبی تعلیم میں تحقیق، اخلاقیات اور جدید ٹیکنالوجی کا موثر اشتراک وقت کی اہم ضرورت بن چکا ہے کیونکہ نصاب کو عملی تحقیق سے مربوط کرنے سے نہ صرف معالجین کی پیشہ ورانہ مہارت میں بہتری آئے گی بلکہ مریضوں کو بھی معیاری سہولیات میسر ہوں گی۔ سیمینار میں شریک ماہرین نے اتفاق کیا کہ پی جی ایم آئی نوجوان ڈاکٹروں کو عالمی میڈیکل افق سے جوڑنے اور پاکستان کے طبی وقار کو بین الاقوامی سطح پر اجاگر کرنے میں کلیدی کردار ادا کر رہا ہے۔سیمینار کے اختتام پر اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ ملک میں نظامِ صحت کی بہتری کے لیے تحقیق پر مبنی جدید تعلیم کو فروغ دیا جائے گا اور پی جی ایم آئی تربیتی پروگراموں کا یہ سلسلہ مستقبل میں بھی جاری رکھے گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں