اسلام آباد (رپورٹنگ آن لائن) سربراہ جمعیت علمائے اسلام (ف) مولانا فضل الرحمن نے بم دھماکے میں مولانا سلطان محمد کی شہادت پر گہرا دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہاہے کہ جمعیت علماء اسلام جیسی اعتدال، رواداری اور آئینی جدوجہد پر یقین رکھنے والی جماعت کے رہنماؤں کو نشانہ بنانا نہایت افسوسناک اور لمحہ فکریہ ہے،قومی سلامتی کے ذمہ دار ادارے اپنی آئینی اور اخلاقی ذمہ داریوں کا ادراک کریں، ملک بھر میں خصوصاً قبائلی اضلاع میں امن کے قیام اور علماء کرام کے مؤثر تحفظ کو یقینی بنائیں۔
ہفتہ کو اپنے بیان میں انہوںنے کہاکہ جنوبی وزیرستان (لوئر) میں ہونے والے بم دھماکے میں جمعیت علماء اسلام کے مخلص اور جری رہنما مولانا سلطان محمد کی شہادت پر گہرا دکھ اور افسوس ہوا ہے،یہ واقعہ محض ایک فرد پر حملہ نہیں بلکہ اعتدال پسند، پرامن اور جمہوری فکر پر حملہ ہے جس کی علمبردار جمعیت علماء اسلام ایک صدی پر محیط جدوجہد کر رہی ہے۔انہوںنے کہاکہ باجوڑ کے بعد جنوبی وزیرستان جیسے گہرے مذہبی تشخص کے حامل خطے میں حریت پسند اور امن کے داعی علماء کو پے درپے نشانہ بنایا جانا ایک تشویشناک سلسلہ ہے۔
انہوںنے کہاکہ چھ ماہ قبل جمعیت علماء اسلام جنوبی وزیرستان کے ضلعی امیر مولانا عبداللہ ندیم ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر وانا میں بم دھماکے کے نتیجے میں شدید زخمی ہوئے اور تاحال نشتر ہسپتال ملتان میں زیرِ علاج ہیں،اس سے قبل سابق ضلعی امیر مولانا مرزا جان بھی اسی شہر میں ایک دہشت گردانہ حملے میں زخمی ہونے کے بعد جامِ شہادت نوش کر چکے ہیں۔انہوںنے کہاکہ جمعیت علماء اسلام جیسی اعتدال، رواداری اور آئینی جدوجہد پر یقین رکھنے والی جماعت کے رہنماؤں کو نشانہ بنانا نہایت افسوسناک اور لمحہ فکریہ ہے۔
انہوںنے کہاکہ علماء کرام پر ہونے والے یہ حملے نہ صرف سیکیورٹی اداروں کی ناکامی اور غفلت کا منہ بولتا ثبوت ہیں بلکہ یہ اس پرامن بیانیے کو دبانے کی مذموم کوششیں بھی ہیں جس کو جمعیت علماء اسلام برسوں سے قبائلی علاقوں سمیت پورے ملک میں فروغ دے رہی ہے۔انہوںنے کہاکہ ایسے علماء کا واحد جرم یہ ہے کہ وہ بندوق کے بجائے دلیل، نفرت کے بجائے محبت اور انتشار کے بجائے امن کے داعی ہیں۔انہوںنے کہاکہ جمعیت علماء اسلام نے ہمیشہ جبر و تشدد کی مخالفت کی، آئین و قانون کی بالادستی کی بات کی اور ریاست کے اندر رہتے ہوئے اصلاح اور امن کی جدوجہد کو اپنا شعار بنایا ہے۔
انہوںنے کہاکہ یہی وجہ ہے کہ یہ جماعت شدت پسندی اور انتہا پسندی کے ہر رنگ سے دور رہتے ہوئے ایک متوازن، ذمہ دار اور قومی دھارے میں شامل سیاسی قوت کے طور پر پہچانی جاتی ہے۔انہوںنے کہاکہ قومی سلامتی کے ذمہ دار ادارے اپنی آئینی اور اخلاقی ذمہ داریوں کا ادراک کریں، ملک بھر میں خصوصاً قبائلی اضلاع میں امن کے قیام اور علماء کرام کے مؤثر تحفظ کو یقینی بنائیں،اور ان اندوہناک واقعات میں ملوث عناصر کو کیفرِ کردار تک پہنچا کر انصاف کے تقاضے پورے کریں۔انہوںنے کہاکہ جمعیت علماء اسلام ملک میں امن، مذہبی ہم آہنگی، جمہوری اقدار اور آئینی بالادستی کے لیے اپنی جدوجہد پوری استقامت کے ساتھ جاری رکھے گی، چاہے اس راہ میں کتنی ہی قربانیاں کیوں نہ دینی پڑیں۔









