اسلام آباد(رپورٹنگ آن لائن)صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے کہا کہ میں سمجھتا ہوں کہ پاکستان میں ایکسپورٹ سیکٹر میں ہم برآمدات اور درآمدات دونوں کرتے ہیں، دونوں میں برابری رہے، لہٰذا ہم برآمدات کو بڑھاتے ہیں اور اسے بڑھانا بھی چاہیے، دنیا اس وجہ سے چلتی ہے کہ دنیا میں جہاں ہمیں مارکیٹ ملے تو وہاں اپنی چیز کو پہنچا سکیں، دنیا کو پتہ ہے کہ کہاں کیا ملتا ہے۔
جمعرات کو اسلام آباد میں سٹرس فیسٹیول کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مواصلات کے ذریعے جتناسستا ہم بیچ سکیں ہم بیچیں گے، اس میں تین چیزیں شامل ہیں پہلی صحت کے حوالے سے ہے اور وہ یہ ہے کہ سکروی جو کہ ایک بیماری ہے وہ سمندری سفر کے دوران وٹامن سی کی کمی کی وجہ سے لاحق ہوتی ہے۔ صدر مملکت نے کہا کہ ہم جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے پیداواری صلاحیت کو بڑھا سکتے ہیں، یونیورسٹیوں اور صنعت کا آپس میں قریبی تعلق ہونا چاہیے، دنیا میں بیج کے بغیر مالٹے کی بڑی مانگ ہے، تحقیق کے ذریعے ہم جدید ورائٹیز کو روشناس کرا سکتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پیداوار میں اضافے کے ساتھ معیار کو بھی بڑھانا ہے جبکہ ہمیں ویلیو ایڈیشن پر بھی خصوصی توجہ دینی چاہیے، افغانستان میں امن سے وسط ایشیاءتک راستے کھلیں گے، ٹرین کے ذریعے ترکی سے یورپ تک رسائی آسان ہو گی، پاکستان کا ترشاہ کی پیداوار میں دنیا میں گیارہواں نمبر ہے









