کراچی (رپورٹنگ آن لائن) پاکستان مسلم لیگ(ن)کے رہنما اور سابق وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے کہا ہے کہ حکومت نے یہ چوتھا بجٹ دیا ہے ، ہرسال 2بجٹ لاتی ہے، نئی بات نہیں،منی بجٹ میں حکومت نے 360 ارب کے سیلزٹیکس لگائے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ منی بجٹ میں حکومت نے360 ارب کےسیلزٹیکس لگائے ہیں ، حکومت نےجوسیلزٹیکس لگائے اس سے مہنگائی بڑھے گی ، سیلز ٹیکس بچوں کی اشیا جیسے دودھ وغیرہ پرلگا ہے۔
سابق وزیر خزانہ نے کہا کہ دودھ ، دہی ، پاڈر ملک پر ٹیکس لگایا ہے ، حکومت نے عام کھانے پینے کی اشیا پرٹیکس لگایا ہے ، حکومت ملک کو بند گلی میں لے جا رہی ہے ، منی بجٹ سے پہلے شوکت ترین بارہا ٹیکس لگانے سے روک چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کوچاہیے تھا اپنے180ارب کیلئے360 ارب کے ٹیکس نہ لگاتے ، حکومت کو ٹیکس لگانے کے بجائے اپنے اخراجات کم کر دینے چاہیے تھے۔ انہوں نے کہا کہ بقول خان صاحب نوازشریف شاہی خرچ اور یہ سادہ خرچ ہیں ، نوزشریف کے شاہی خرچ میں سے 300ارب کم کرلیتے ، وزیراعظم تو ہرسال نوازشریف کے خرچے سے زیادہ خرچ کرتے ہیں۔
سابق وزیر خزانہ نے کہا کہ بیرون ملک سے بائی سائیکل منگالیں ،روزجہازسے دفتر آتے جاتے ہیں ، وزیراعلی کے پی جب ڈیڑھ کروڑکے تحائف دینگے توآئی ایم ایف کے پاس توجانا پڑیگا۔









