ایکسائز 106

ملازمین کی پرموشن کے دوران بے ضابطگیاں۔ڈائریکٹر ایکسائز نے ایکبار پھر ڈی جی کے اختیارات کرڈالے۔

میاں تنویر سرور

ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن لاہور ریجن اے کے ڈائریکٹر محمد مشتاق فریدی پر کرپشن اور اختیارات سے تجاوز کے الزامات ایکبار پھر سے سننے میں آیے ہیں۔
ایکسائز
ذرائع کے مطابق، محمد مشتاق فریدی نے رواں سال کے دوران ماتحت ریجن سے تعلق رکھنے والے بعض ایسے کانسٹیبلز کو کلرک کے عہدے پر پروموٹ کیا ہے۔دوسرے ریجنز میں کام کررہے ہیں۔
ایکسائز
الزام ہے کہ محمد مشتاق فریدی نے پہلے تو ان کانسٹیبلز کو پروموشن کے لیے ریجن اے میں رپورٹ کرنے کا تحریری حکم دیا، لیکن پھر ان کی جوایننگ کے بغیر ہی انہیں ترقی دے ڈالی ۔اور ایک نیے لیٹر کے زریعے پروموشن کے بعد انہیں انہی ریجنز میں کام کرنے کی اجازت دے دی جہاں وہ کام کررہے تھے ۔حالانکہ یہ اختیار صرف ڈائریکٹر جنرل ایکسائز کے پاس ہے، جو کہ صوبائی سطح پر ملازمین کی منتقلی کا فیصلہ کر سکتے ہیں۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ لیٹر لکھنے کے باوجود محمد مشتاق فریدی نے ان ملازمین کو ریجن اے میں رپورٹ کرنے کی زحمت نہیں دی کیونکہ مبینہ طور پر ان سے بھاری رشوت وصول کی گئی تھی۔ اس طرح، انہوں نے ڈی جی ایکسائز کے اختیارات کا ناجائز استعمال کیا، جو کہ کرپشن کی ایک واضح مثال ہے۔

ڈیپارٹمنٹ کے ایک سابق افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ “ایسی پروموشنز میں رشوت کا عنصر عام ہے، اور ڈائریکٹرز اکثر اپنے اختیارات سے تجاوز کرتے ہیں تاکہ ذاتی فائدہ اٹھائیں۔”

ادھر عوامی حلقوں نے پنجاب حکومت اور اینٹی کرپشن ڈیپارٹمنٹ سے مطالبہ کیا ہے کہ اس معاملے کی تحقیقات کی جائیں

اس سلسلے میں گفتگو کرتے ہوئے محمد مشتاق فریدی نے الزامات کو بے بنیاد قرار دیا اور کہا کہ میں نے قانون اور اختیارات کا کبھی غلط استعمال نہیں کیا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں