ماسکو (رپورٹنگ آن لائن) روس نے خبردار کیا ہے کہ اگر یوکرین کو جوہری ہتھیار حاصل ہو گئے تو مغربی یورپ سب سے پہلے اس کی مبینہ بلیک میلنگ کا نشانہ بن سکتا ہے۔
روسی وزارت خارجہ کی ترجمان ماریہ زخارووا نے ایک انٹرویو میں کہا کہ یوکرینی صدر ولادیمیر زیلنسکی جوہری صلاحیت حاصل کرنے کی صورت میں نہ صرف مالی امداد اور اسلحہ طلب کریں گے بلکہ اپنے اقتدار کو برقرار رکھنے کے لیے مزید شرائط بھی عائد کر سکتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ایسی صورتحال میں مغربی یورپ سب سے پہلے متاثر ہوگا اور اسے سنگین نتائج کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
روسی فارن انٹیلیجنس سروس نے دعویٰ کیا ہے کہ برطانیہ اور فرانس یوکرین کو جدید ہتھیاروں اور متعلقہ ٹیکنالوجی کی فراہمی کے لیے سرگرم ہیں، یورپی ساختہ پرزہ جات اور آلات خفیہ طریقے سے یوکرین منتقل کرنے کے منصوبے زیر غور ہیں، فرانسیسی TN-75 وارہیڈ، جو M51.1 بیلسٹک میزائل سے منسلک ہے، بھی ممکنہ آپشنز میں شامل ہے۔
اس حوالے سے مغربی ممالک یا یوکرین کی جانب سے کسی باضابطہ تصدیق سامنے نہیں آئی تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسے بیانات موجودہ کشیدہ عالمی صورتحال میں سفارتی دباؤ بڑھانے کا حصہ بھی ہو سکتے ہیں۔









