کوئٹہ (رپورٹنگ آن لائن)گورنربلوچستان جعفرخان مندوخیل نے کہا کہ معیشت انسانی معاشرے کی اساس ہے اور حکومت کے تعاون سے ہم تجارت اور صنعت کی بنیادوں کو مستحکم بنائیں گے۔ یہ حقیقت ہے کہ قومی آمدنی کا 90 فیصد سے زائد حصہ تاجروں اور صنعت کاروں کے ٹیکسوں سے حاصل ہوتا ہے جس سے ان کی اہمیت ثابت ہوتی ہے۔
تجارت کے بغیر کوئی ملک ترقی نہیں کر سکتا۔ بحیثیت گورنر میں نے آپ کے مسائل وفاقی اور صوبائی دونوں سطحوں پر متعلقہ حکام تک پہنچا دیئے ہیں جن میں سے کچھ حل ہو چکے ہیں اور کچھ ابھی باقی ہیں۔ بہت جلد میں آپ کی موجودہ تجاویز و شکایات وزیر اعظم پاکستان میاں محمد شہباز شریف اور وفاقی وزیر تجارت جام کمال کو پیش کرونگا تاکہ حکومتی تعاون سے ایک پائیدار حل نکالا جا سکے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعرات کے دن کوئٹہ چیمبر آف سمال ٹریڈرز اینڈ سمال انڈسٹری کے دورے کے موقع پر منقعدہ تقریب کے شرکا سے خطاب کرتے کیا۔
چیمبر آف سمال ٹریڈرز اینڈ سمال انڈسٹری کے پیٹرن ان چیف جمعہ خان نورزئی، صوبائی مشیر نسیم الرحمٰن ملاخیل، عبدالرحیم زیارتوال، پارلیمانی سیکرٹری میر لیاقت لہڑی، پارلیمانی سیکرٹری حاجی برکت رند، رکن صوبائی اسمبلی رحمت صالح بلوچ، وفاقی محتسب کے ریجنل ڈائریکٹر غلام سرور براہوئی، اور کوئٹہ صنعت و تجارت کے صدر محمد ایوب میریانی سمیت بلوچستان کی صعنت و تجارت سے وابستہ افراد کی ایک بڑی تعداد موجود تھی۔ قبل ازیں گورنر بلوچستان جعفرخان مندوخیل نے چیمبر آف سمال ٹریڈرز اینڈ سمال انڈسٹری کے احاطے میں نئے کانفرنس ہال کا افتتاح کیا۔ شرکاء سے خطاب میں گورنر بلوچستان جعفرخان مندوخیل نے کہا کہ تجارت اور اسمگلنگ کو ایک دوسرے سے الگ رکھا جانا چاہیے۔
ہمارے صوبے کے تاجر حضرات اپنی جائز تجارت کرتے ہیں اور ٹیکس بھی باقاعدگی سے ادا کرتے ہیں۔ آج کی تقریب کا انعقاد بالکل بروقت اور مناسب ہے.اگرچہ پاکستان میں ایگریکلچر سیکٹر بھی بہت اہم ہے لیکن اس کے بعد صنعت اور تجارت آتے ہیں جو بیک وقت ترقی اور روزگار دونوں کو آگے بڑھاتے ہیں۔ ایک دفعہ پھر ہم تاجر برادری کے ساتھ بیٹھیں گے، ان کی بات سنیں گے اور ان کے مسائل حل کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ تجارت اور صنعت ملکی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں۔ پچھلے چند برسوں کے دوران بلوچستان میں عالمی وباء کورونا وائرس پھر بارڈرز کی بندش اور موجودہ خطے کی کشیدہ صورتحال سے تاجر برادری سب سے زیادہ متاثر ہو چکی ہے لہٰذا ضروری ہے کہ ہم اسی ریڑھ کی ہڈی کو مضبوط اور مستحکم بنائیں۔
ہم باہمی مشاورت اور مشترکہ کوششوں پر یقین رکھتے ہیں۔ نئی تجارتی پالیسیاں تشکیل دیتے وقت تاجروں اور صنعتکاروں کو ضرور اعتماد میں لیا جائے اور ان کی شکایات کا فوری طور پر ازالہ کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ تمام بزنس کمیونٹی کیلئے نئی معاشی سرگرمیاں پیدا کرنا اور دیگر ممالک کی تجارتی منڈیوں تک رسائی فراہم کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے۔ آخر میں گورنر بلوچستان جعفرخان مندوخیل نے چیمبر آف سمال ٹریڈرز اینڈ سمال انڈسٹری میں کامیاب تقریب کے انعقاد پر تمام منتظمین اور شرکاء کے کوششوں کو خراج تحسین پیش کیا۔ تقریب کا اختتام مہمانان گرامی میں شیلڈز تقسیم کرنے پر ہوا۔









