شہبازاکمل جندران۔۔۔
پنجاب میں معلومات تک رسائی کے عمل کو روز بروز آسان بنانے کی بجائے مشکل بنایا جارہا ہے۔
اور اس عمل میں خود پنجاب انفارمیشن کمیشن بھی پیش پیش ہے۔ایک طرف پنجاب انفارمیشن کمیشن نے خلاف قانون شہریوں کے لئے سرکاری اداروں کی Procurement اور Expenditures کی مصدقہ اور غیر مصدقہ نقول کا حصول بند کردیا ہے اور سلسلے میں عوام الناس کو باقاعدہ طورپر ایک پالیسی کے اجرا کے متعلق بھی تحریری طورپر آگاہ کیا ہے۔ کہ کمیشن نئی پالیسی جاری کرچکا ہے۔

دوسری طرف شہریوں کے لئے سرکاری دستاویزات کے ریٹس کو پنجاب انفارمیشن کمیشن نے حکومتی منظوری یا کسی بھی قسم کے نوٹیفکیشن کے بغیر ہی ازخود ریوائز کرتے ہوئے فی صفحہ قیمت 2 روپے سے بڑھا کر 5 روپے کردی ہے۔ حالانکہ عدالتوں، کچہریوں میں فوٹو کاپی کی فی صفحہ زیادہ سے زیادہ قیمت 3 روپے ہے۔

لیکن بطور عدالت کام کرنے والے پنجاب انفارمیشن کمیشن نے یہ قیمت از خود ہی2 سے 5 روپے کردی ہے۔

شہریوں نے اس از خود اضافے کو مسترد کرتے ہوئے پنجاب انفارمیشن کمیشن کے چیف محبوب قادر شاہ سے مطالبہ کیا یے کہ وہ RTI Act 2013 پر حقیقی منشا کے مطابق عمل کریں اور کسی کو اپنا قانون بنانے نہ دیں







