اسلام آباد(رپورٹنگ آن لائن) وزیرِاعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت ملکی معاشی صورتحال کے جائزے کا اجلاس ہوا، اجلاس میں عالمی سطح پر حالیہ کشیدگی اور اس کے خطے پر پڑنے والے معاشی اثرات پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔
وزیرِ اعظم نے کمیٹی کو ہدایت کی کہ 48 گھنٹوں کے اندر سادگی اور بچت پر مبنی ایسا قابل عمل لائحہ عمل پیش کیا جائے جو عوام پر بوجھ کم سے کم ڈالے اور عوامی ریلیف کو اولین ترجیح دے۔
اجلاس میں بتایا گیا کہ وزیرِ اعظم نے گزشتہ ہفتے ہی عالمی معاشی دباؤ کے اثرات کا جائزہ لینے کے لیے کمیٹی تشکیل دی تھی، جس کی بدولت ملک میں پٹرولیم مصنوعات کی کمی پیدا نہیں ہوئی، تاہم گزشتہ روز عالمی سطح پر قیمتوں میں اضافے کے پیش نظر صارفین پر بوجھ کم سے کم منتقل کرنے کے لیے کمیٹی کی تجاویز پر پٹرولیم مصنوعات کی قیمت میں اضافہ کیا گیا۔
وزیرِ اعظم نے واضح حکم دیا کہ کوئی بھی پیٹرول پمپ یا کمپنی جو مصنوعی قلت پیدا کرنے یا ذخیرہ اندوزی میں ملوث پائی گئی، اس کا فوری لائسنس منسوخ اور قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔
انہوں نے مزید ہدایت کی کہ وزیر خزانہ اور وزیر پٹرولیم چاروں صوبوں کا دورہ کریں اور صوبائی حکومتوں کے ساتھ مل کر پٹرولیم مصنوعات کی بچت اور بلاتعطل فراہمی کے لیے منصوبہ بندی اور لائحہ عمل تیار کریں۔
اجلاس میں کمیٹی کو مزید فعال رہ کر عوام کے لیے سہل اور مؤثر سفارشات پیش کرنے کی ہدایت بھی دی گئی۔








