زیمبیا 20

مصنوعی ذہانت روزگار کو طاقت دیتی ہے، اے پیک وزارتی اجلاس کےاہم نتائج

بیجنگ (رپورٹنگ آن لائن) اے پیک انسانی وسائل کی ترقی کا آٹھواں وزارتی اجلاس چین کے صوبہ جیانگ سو کے شہر نان جنگ میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں “اے پیک انسانی وسائل کی ترقی کے آٹھویں وزارتی اجلاس کا مشترکہ بیان (نان جنگ بیان)” منظور کیا گیا۔ اس کے علاوہ “مصنوعی ذہانت کے ذریعے ایشیا پیسیفک میں روزگار کی ترقی” کے عنوان سے ایک دستاویز بھی منظور کی گئی، جو اے پیک کے انسانی وسائل کی ترقی کے تعاون کے تحت مصنوعی ذہانت اور روزگار پر توجہ مرکوز کرنے والی پہلی دستاویز ہے۔

چین کے انسانی وسائل اور سوشل سکیورٹی کے نائب وزیر یو جیا دونگ نے کہا کہ اجلاس میں اس بات پر اتفاق کیا گیا ہے کہ ہمیں زیادہ مؤثر اور طاقتور اقدامات کے ذریعے پیشہ ورانہ مہارت کی تربیت کے نظام کو مضبوط بنانا چاہیے، ٹیلنٹ کی تربیت اور صنعتی ضروریات میں ہم آہنگی بڑھانی چاہیے اور محنت کشوں کے پیشہ ورانہ ترقی کے راستوں کو مسلسل وسعت دینی چاہیے۔

اے پیک سیکریٹریٹ کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ایڈوارڈو پیڈروسا نے کہا کہ مصنوعی ذہانت کے باعث روزگار پر پڑنے والے اثرات سے نمٹنے کے لیے تعلیمی نظام میں تبدیلی ایک اہم نقطہ ہے۔ حکومت کو اس معاملے میں اہم کردار ادا کرتے ہوئے نئے عہدوں اور افرادی قوت کے درمیان طلب و رسد میں مؤثر رابطے کے راستے پیدا کرنے چاہئیں۔ اجلاس میں شریک مختلف نمائندوں نےتمام معیشتوں سے اپیل کی کہ وہ ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کے ذریعے سوشل سکیورٹی کے نظام کو مزید مضبوط بنائیں اور کامیاب تجربات کے علاقائی تبادلے کو فروغ دیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں