اسلام آباد (رپورٹنگ آن لائن)وفاقی وزیر صحت اور رہنما ایم کیو ایم مصطفی کمال نے کئی ایم کیو ایم رہنمائوں کی سیکیورٹی واپس لینے کی تصدیق کر تے ہوئے کہا ہے کہ یہ سمجھتے ہیں سیکیورٹی لے کر ہمیں ڈرا لیں گے لیکن ہمیں کوئی فرق نہیں پڑتا،وفاق ایک نوٹیفکیشن کے ذریعے کراچی کو کنٹرول کر سکتا ہے۔
ایک انٹرویومیں سید مصطفی کمال نے کہا کہ مجھ سے بھی سیکیورٹی واپس لے لی گئی ہے، یہ سمجھتے ہیں سیکیورٹی لے کر ہمیں ڈرا لیں گے لیکن ہمیں کوئی فرق نہیں پڑتا۔انہوں نے کہا کہ ہمارے موقف کی تائید ہوگئی ہے کہ وفاق کو آرٹیکل 148 کے تحت کراچی کو کنٹرول میں لینا چاہیے، وفاق ایک نوٹیفکیشن کے ذریعے کراچی کو کنٹرول کر سکتا ہے۔وفاقی وزیر نے کہا کہ ساری وفاقی حکومت اور ریاست ہمارے موقف کو سن رہی ہے، وفاقی حکومت کو خط بھی لکھا گیا ہے، کابینہ میٹنگ میں بھی یہ بات کر رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ گل پلازا کا سانحہ ہوا، لوگ شہید ہوگئے، گل پلازا کی غفلت اور کارکردگی پر ہم نے اسے ظلم کہا، ظلم کو ظلم کہنے پر یہ رویہ ہے تو دوبارہ کہتا ہوں کراچی کو ان کے چنگل سے آزاد کروایا جائے۔مصطفی کمال نے کہاکہ کراچی جیسا اہم شہر سندھ حکومت جیسی نااہل صوبائی حکومت کے کنٹرول میں نہیں ہونا چاہیے۔ دریں اثناء ڈیجیٹلائزڈ ہیلتھ سینٹر کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وزیراعظم محمد شہباز شریف اور ہماری کوشش ہے کہ عوام کو بیماریوں سے بچائیں، ٹیلی میڈیسن کے ذریعے مریضوں کو سہولیات فراہم کر رہے ہیں،ٹیلی میڈیسن کے ذریعے ڈاکٹر گھر بیٹھے مریضوں کا علاج کر سکتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ بیماریوں سے بچاؤ اور قابو پانے کیلئے آگاہی بہت ضروری ہے ، کچھ کام عوام کے کرنے کے بھی ہوتے ہیں حکومت دروازے تک آ سکتی ہے لیکن دروازہ کھول کے بچے کو ویکسین آپ نے کروانی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ احتیاط علاج سے بہتر ہے ، ہیلتھ کیئر کا مقصد بیماریوں کا علاج نہیں بلکہ عوام کو بیماریوں سے بچانا ہے، بنیادی مراکز صحت میں 13بیماریوں سے بچاؤ کی ویکسین فراہم کی جا رہی ہے، کورونا کی ویکسین آئی اور کورونا وائرس پر قابو پا لیا گیا ، کینسر سے بچائو کی ویکسین بھی 15 سال میں آ جائے گی۔
انہوں نے کہا کہ ہم نے بیماریوں کی روک تھام کے لیے بہتر سے بہتر انتظامات کرنے ہیں ، اس یو سی کو ماڈل یو سی بنانا ہے جہاں ایک بھی بچہ ویکسین کے بغیر نہ رہے، بنیادی صحت مراکز کا ٹائم بڑھا کر شام 6 بجے تک کیا گیا ہے ،ہم تمام لوگوں کو صحت کی بہتر سہولیات دے رہے ہیں۔ پاکستان میں خواتین میڈیکل میں زیادہ آتی ہیں۔لیکن وہ جاب نہیں کرتیں۔اس وقت ملک کی 70 فیصد خواتین ڈاکٹر نوکری نہیں کر رہیں ، نئے ڈاکٹر بھرتی کیے جائینگے اور یہ خواتین ٹیلی میڈیسن کے ذریعے خدمات فراہم کریں گی۔









