بدر عبدالعاطی 59

مصر نے غزہ میں کسی بھی جغرافیائی یا آبادیاتی تبدیلی کو مسترد کر دیا

قاہرہ(رپورٹنگ آن لائن)مصری وزیرِ خارجہ بدر عبدالعاطی نے واضح کیا ہے کہ مصر ہر اس کوشش کو سختی سے مسترد کرتا ہے جس کا مقصد فلسطینیوں کو بے دخل کرنا یا غزہ کی پٹی کی جغرافیائی یا آبادیاتی حیثیت کو تبدیل کرنا ہو۔انہوں نے اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل انتونیو گوتریس سے فون پر گفتگو میں غزہ کی پٹی کی تازہ صورتِ حال، غزہ میں جنگ بندی کے استحکام اور بین الاقوامی سفارتی کوششوں پر تبادلہ خیال کیا۔

مصری وزارتِ خارجہ کے ترجمان تمیم خلاف کے مطابق عبدالعاطی نے غزہ میں فائر بندی کو برقرار رکھنے، سلامتی کونسل کی قرارداد 2803 پر عمل درآمد اور انسانی امداد کی بلا روک ٹوک فراہمی پر زور دیا۔ انہوں نے غزہ میں بین الاقوامی استحکام فورس کی تعیناتی کے لیے جاری مشاورت کا بھی ذکر کیا۔عبدالعاطی نے فلسطینی ٹیکنوکریٹ کمیٹی کی تشکیل کو ضروری قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس کے ذریعے غزہ کی پٹی میں فلسطینی اتھارٹی کی واپسی کی راہ ہموار ہو گی۔ انہوں نے روزانہ کی بنیاد پر انسانی امداد کی مقدار بڑھانے اور علاقائی و عالمی شراکت داروں کے ساتھ قریبی تعاون پر بھی زور دیا، تاکہ فلسطینی عوام کو ان کے حقِ خود ارادیت کی حمایت مل سکے۔

عبدالعادطی نے مغربی کنارے میں بگڑتی صورتِ حال پر تشویش کا اظہار کیا، خاص طور پر آباد کاروں کے بڑھتے ہوئے تشدد اور زمینوں کی مسلسل ضبطی پر۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ اقدامات کشیدگی میں اضافے کا باعث بن رہے ہیں اور عالمی برادری کی فوری مداخلت ناگزیر ہے۔مصری وزیرِ خارجہ نے اقوام متحدہ کی ریلیف ایجنسی (انروا)کے ناقابلِ بدل کردار پر بھی زور دیا۔

انہوں نے جنرل اسمبلی کے حالیہ فیصلے کا خیرمقدم کیا جس کے تحت انروا کی مدتِ کار تین سال کے لیے بڑھا دی گئی ہے۔عبدالعاطی نے بتایا کہ انہیں انروا کے سربراہ فلپ لازارینی کا فون بھی موصول ہوا، جس میں ادارے کی جانب سے انسانی امداد کی تقسیم اور خدمات کی فراہمی کے بارے میں تفصیل دی گئی، خصوصا موجودہ حساس حالات میں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں