لاہور ہائی کورٹ 8

لاہور ہائیکورٹ کے حکم پر 4سال قبل لاپتہ ہونے والی لڑکی بازیاب، عدالت نے کیس نمٹا دیا

لاہور( رپورٹنگ آن لائن)لاہور ہائیکورٹ کے حکم پر چار سال قبل لاپتہ ہونے والی لڑکی کو بازیاب کرا لیا گیا،عدالت نے بازیاب ہونے والی لڑکی کو شوہر کے ساتھ جانے کی اجازت دیتے ہوئے بازیابی کے متعلق کیس نمٹا دیا۔لاہور ہائیکورٹ کی چیف جسٹس مس عالیہ نیلم نے شہری نادر علی کی درخواست پر کیس کی سماعت کی۔

سماعت کے موقع پر ریجنل پولیس آفیسر ساہیوال رانا ایاز سلیم نے بازیاب ہونے والی لڑکی کوعدالت میں پیش کیا، لڑکی اپنے شوہر کے ہمراہ عدالت میں پیش ہوئی۔ درخواست گزار نادر علی نے 2022 میں اپنی پندرہ سالہ بھانجی کی بازیابی کیلئے لاہور ہائیکورٹ سے رجوع کیا تھا جس پر عدالت نے پولیس کو لڑکی کی بازیابی کا حکم دیا تھا۔ عدالتی احکامات پر عمل کرتے ہوئے آر پی او ساہیوال رانا ایاز سلیم نے لڑکی کو ضلع رحیم یار خان کے کچے کے علاقے سے بازیاب کرا کے عدالت میں پیش کیا۔ پولیس رپورٹ کے مطابق لڑکی نے کچے کے علاقے سے تعلق رکھنے والے ایک نوجوان سے پسند کی شادی کر رکھی تھی اور بعد ازاں اپنے شوہر کے ساتھ کراچی منتقل ہو کر رہائش پذیر تھی جہاں اس کے ہاں ایک بیٹا بھی پیدا ہوا۔

سماعت کے دوران عدالتی حکم پر لڑکی کی اپنے ماموں درخواست گزار نادر علی سے ملاقات بھی کروائی گئی،عدالت کے روبرو لڑکی نے اپنے شوہر کے ساتھ رہنے کی خواہش کا اظہار کیا۔عدالت کو یہ بھی بتایا گیا کہ لڑکی کے والد سماعت اور قوت گویائی سے محروم ہیں جبکہ اس سے قبل تعینات سابق آر پی او محبوب رشید عدالتی احکامات کے باوجود لڑکی کی بازیابی میں کامیاب نہیں ہو سکے تھے۔چیف جسٹس عالیہ نیلم نے لڑکی کی کامیاب بازیابی پر آر پی او ساہیوال رانا ایاز سلیم کی کارکردگی کو سراہا۔بعد ازاں عدالت نے لڑکی کو اس کی مرضی کے مطابق شوہر کے ساتھ جانے کی اجازت دیتے ہوئے درخواست نمٹا دی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں