لاہور ہائی کورٹ 78

لاہور ہائیکورٹ نے پی ٹی آئی کا جلسہ رکوانے سے متعلق درخواست ناقابل سماعت قرار دے کر مسترد کردی

لاہور( رپورٹنگ آن لائن)لاہور ہائیکورٹ نے پاکستان تحریک انصاف کا جلسہ رکوانے سے متعلق درخواست ناقابل سماعت قرار دے کر مسترد کردی جبکہ بنچ کے سربراہ جسٹس فاروق حیدر نے چیف سیکرٹری پنجاب سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ ملک ہے تو سب ہیں، آج جو اقتدار میں ہیں ماضی میں اپوزیشن میں تھے، آپ اس وقت بھی سروس کررہے تھے آج بھی سروس کررہے ہیں،ہر پندرہ بیس دن بعد اس طرح کی کوئی رٹ دائر ہوجاتی ہے، کیا یہ بہتر نہ ہوگا ہم ہر ضلع میں جلسے کے لئے ایک جگہ مختص کردیں،لاہور بڑا شہر ہے یہاں جلسے کے لئے دو تین جگہیں مختص کردیں ، یہاں صورتحال یہ ہے کہ آگے جلسہ ہورہا ہوتا ہے پیچھے جنازے رکے ہوتے ہیں، حکومتیں تو آتی جاتی رہتی ہیں، کوئی ایسا کام کر جائیں جس سے لوگ آپ کو یاد رکھیں۔

لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس فاروق حیدر کی سربراہی تین رکنی بنچ نے پی ٹی آئی رہنمائوں کی جانب سے جلسہ کی اجازت دینے اور ایڈووکیٹ ندیم سرور کی جانب سے جلسہ رکوانے کے لئے دائر درخواست پر سماعت کی ۔ جسٹس فاروق حیدر نے ریمارکس دیئے کہ آپ متاثرہ فریق نہیں ہیں۔ عدالتی حکم پر آئی جی پنجاب اور چیف سیکرٹری عدالت سمیت دیگر اعلیٰ افسران عدالت میں پیش ہوئے۔سماعت کے آغاز پر بنچ کے سربراہ جسٹس فاروق حیدر نے ریمارکس میں کہا کہ کمرہ عدالت میں تھوڑی جگہ بنائیں تا کہ فریقین کی حاضری لگا سکیں۔عدالت نے استفسار کیا کہ ایڈووکیٹ جنرل پنجاب نہیں آئے؟ جس پر سرکاری وکیل نے عدالت کو بتایا کہ ایڈووکیٹ جنرل پنجاب اسلام آباد ہیں۔سرکاری وکیل نے پی ٹی آئی کی جلسے سے متعلق درخواست ناقابل سماعت قرار دے کر مسترد کرنے کی استدعا کرتے ہوئے موقف اپنایا کہ عالیہ حمزہ نے جلسے کی اجازت کے لیے متعلقہ فورم سے رجوع ہی نہیں کیا، عمر ایوب اور پنجاب اسمبلی میں قائد حزب اختلاف احمد خان بھچر نے بھی جلسے کی اجازت کے لیے درخواست دی۔

سرکاری وکیل نے عدالت کو بتایا کہ حساس اداروں کی رپورٹس کی روشنی میں جلسے کی اجازت نہیں دی، پی ٹی آئی کے حالیہ جلسوں میں کی گئی تقریریں ریکارڈ کا حصہ ہیں، جلسے میں عدلیہ مخالف ،ریاست مخالف تقریریں ہوئیں، اسلام آباد کے جلسے میں صحافیوں کے خلاف نامناسب زبان استعمال ہوئی، حماد اظہر جو مختلف مقدمات میں اشتہاری ہیں انہوں نے تقریر کی، وزیر اعلیٰ خیبر پختوانخواہ علی امین گنڈا پور نے بھی نامناسب الفاظ کا استعمال کیا۔بنچ کے رکن جسٹس علی ضیا ء باجوہ نے استفسار کیا کہ یہ بتائیے کیا عالیہ حمزہ پارٹی کی کوئی عہدیدار ہیں؟۔اس پر پی ٹی آئی کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ عالیہ حمزہ پی ٹی آئی کی سی ای سی کی رکن ہیں۔جسٹس طارق ندیم نے ریمارکس میں کہا کہ ریکارڈ سے پتہ چلتا ہے کہ عالیہ حمزہ نے جلسے کے لیے کوئی درخواست نہیں دی۔بنچ کے سربراہ جسٹس فاروق حیدر نے کہا کہ قانون کے مطابق درخواست دینا ضروری ہے۔عدالت نے استفسار کیا کہ ڈپٹی کمشنر کہاں ہیں آگے آئیے۔ جسٹس فاروق حیدر نے ڈپٹی کمشنر سے استفسار کیا کہ عالیہ حمزہ نے جلسے کے لیے کوئی درخواست دی ؟ جس پر ڈی سی نے بتایا کہ عالیہ حمزہ نے جلسے کے لئے کوئی درخواست نہیں دی۔اس پر جسٹس فاروق حیدر نے پی ٹی آئی کے وکیل کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ کے سیکرٹری جنرل نے تو 22ستمبر کو جلسے کی اجازت مانگی ہے، کہیں آپ نے 21ستمبر کو جلسے کی اجازت مانگی ہے۔عدالت نے استفسار کیا کہ عالیہ حمزہ ہیں کہاں؟۔

وکیل نے عدالت کو بتایا کہ وہ اس وقت بھی ہائوس اریسٹ کی کیفیت میں ہیں۔جسٹس فاروق حیدر نے پی ٹی آئی کے وکیل کو ہدایت کی کہ آپ ابھی جلسے کی اجازت کے لیے ڈپٹی کمشنر کو درخواست دیں، ہم پندرہ منٹ میں دوبارہ آئیں گے آپ ہمارے سامنے درخواست دیں، ڈپٹی کمشنر آج ہی درخواست پر فیصلہ کریںگے ،اس کے بعد عدالت عالیہ نے جلسے کی اجازت سے متعلق درخواستوں کی سماعت میں کچھ دیر کیلئے وقفہ کردیا۔سماعت دوبارہ شروع تو جسٹس طارق ندیم نے چیف سیکرٹری کو روسٹرم پر بلایا اور ان سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ دیکھیے یہ ملک ہے تو سب ہیں، آج جو اقتدار میں ہیں ماضی میں اپوزیشن میں تھے، آپ اس وقت بھی سروس کررہے تھے آج بھی سروس کررہے ہیں، ہر پندرہ بیس دن بعد اس طرح کی کوئی رٹ دائر ہوجاتی ہے، کیا یہ بہتر نہ ہوگا ہم ہر ضلع میں جلسے کے لئے ایک جگہ مختص کردیں۔عدالت نے چیف سیکرٹری سے مکالمے میں کہا کہ لاہور بڑا شہر ہے یہاں جلسے کے لئے دو تین جگہیں مختص کردیں ، یہاں صورتحال یہ ہے کہ آگے جلسہ ہورہا ہوتا ہے پیچھے جنازے رکے ہوتے ہیں، حکومتیں تو آتی جاتی رہتی ہیں، کوئی ایسا کام کر جائیں جس سے لوگ آپ کو یاد رکھیں۔جسٹس طارق ندیم نے ریمارکس میں کہا کہ آج یہ لوگ کہہ رہے ہیں کہ جلسے کی اجازت نہیں مل رہی کل وہ کہہ رہے تھے، دنیا کہاں سے کہاں نکل گئی ہم آج بھی یہاں پھنسے ہیں، بولنے کی آزادی نہیں ہے، جلسے کی اجازت نہیں ہے۔جسٹس فاروق حیدر نے آئی جی پنجاب کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آئی جی صاحب ہم آپ سے یہ توقع نہیں کرتے کہ لوگوں کو غیر قانونی ہراساں کیا جائے، اس پر آئی جی نے جواب دیا کہ ہماری طرف سے کوئی ہراسمنٹ نہیں کی جارہی۔

پی ٹی آئی کے وکیل لطیف کھوسہ نے کہا کہ آئی جی صاحب جھوٹ مت بولئے، میرے گھر کے باہر ایک ہفتے سے پولیس کھڑی ہے۔جسٹس فاروق حیدر نے ریمارکس میں کہا کہ یہ ریکارڈ پر ہے کہ درخواست گزار عالیہ حمزہ نے جلسے کی اجازت کے لئے ڈپٹی کمشنر کو کوئی درخواست نہیں دی، درخواست گزار کے وکیل نے عدالتی حکم پر ابھی ہاتھ سے لکھی درخواست ڈپٹی کمشنر کو دی۔بعدازاں عدالت نے ڈپٹی کمشنر کو حکم دیا کہ شام پانچ بجے تک جلسے کی اجازت سے متعلق پی ٹی آئی کی درخواست پر فیصلہ کریں ۔عدالت نے جلسہ کی اجازت کے لیے دائر درخواست نمٹا دی۔جبکہ عدالت نے جلسہ رکوانے سے متعلق درخواست کو ناقابل سماعت قرار دے کر مسترد کردیا۔
٭٭

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں