شہباز اکمل جندران۔۔۔
امیرالدین میڈیکل کالج سے متصل لاہور جنرل ہسپتال کے شعبہ امراض چشم کے مختلف یونٹوں خصوصا” یونٹ ون میں مختلف کمپنیوں کے نمائندے کھلے عام سڑلائزڈ ایریا کے اندر لینز فروخت کرنے لگے ہیں جو سرجری سے قبل مریضوں کو لینز خریدنے پر مجبور کرتے ہیں اور انکار کرنے والے مریضوں کو سرکاری سطح پرمفت لینز دستیاب نہ ہونے کا کہ کر ان کے آپریشن ملتوی کر دیئے جاتے ہیں۔

ایل جی ایچ شعبہ امراض چشم کے پروفیسر صاحبان کی اس روش کی وجہ سے آپریشن کے لئے لسٹ میں شامل غریب مریضوں کو مشکلات کا سامنا ہے۔

زرائع کے مطابق آئی یونٹ ون اور یونٹ ٹو میں سفارش نہ رکھنے والے غریب مریضوں کا نام بار بار آپریشن لسٹ سے نکال دیا جاتا ہے۔اور جب کبھی ان کا نام لسٹ میں شامل کیا جاتا ہے تو آپریشن ڈے پر آپریشن تھیٹر سے منسلک ممنوع و سڑلایزڈ چھوٹے کمرے میں مخصوص کمپنیوں کے نمائندے مریضوں کو آواز دے کر بلاتے ہیں اور انہی لینز خریدنے پر مجبور کرتے ہیں۔اور ہسپتال عملے اور موقع پر موجود ڈاکٹرز مریضوں کو بتا تے ہیں کہ ان کے مطلوبہ نمبر کا لینز آپریشن تھیٹر میں دستیاب نہیں ہے اگر وہ لینز خریدنے ہیں تو ٹھیک ورنہ ان کا آپریشن آج نہی ہو پائیگا۔ جس پر مریضوں کو مجبورا” لینز خریدنے پڑتے ہیں اور جو نہیں خریدنے پاتے انہیں گاون پہنے ویٹنگ روم میں انتظار کروانے کے بعد ان کی سرجریز ملتوی کر دی جاتی ہیں۔

جنرل ہسپتال لاہور ایک سرکاری ہسپتال ہے جہاں غریب عوام کو ہر طرح کا علاج معالجہ اور ہر طرح کی سہولت مفت فراہم کی جاتی ہے۔
تاہم یونٹ ون اور یونٹ ٹو کے پروفیسروں کی منشا کے تحت لینز بیچنے والی کمپنیوں کے نمائندے آپریشن تھیٹر کے سٹرلائزڈ ایریا میں کھڑے رہتے ہیں اور مریضوں کو لینز خریدنے پر مجبور کرتے ہیں۔
جبکہ پرنسپل امیر الدین میڈیکل کالج صورتحال سے بخوبی آگاہ ہونے کے باوجود چشم پوشی سے کام لیتے ہیں۔
اس سلسلے میں امیر الدین میڈیکل کالج اور لاہور جنرل ہسپتال کی انتظامیہ کا موقف ہے کہ لینز نہ خریدنے والے مریضوں کے آپریشن ملتوی کرنے کا الزام غلط ہے۔مریضوں کے آپریشن طبی مسائل کے باعث ملتوی کیئے گئے۔انتظامیہ کا مزید کہنا تھا کہ کون سا مریض لینز خریدتاہے یا مہنگا لینز خریدتا ہے۔ کون سا نہیں خریدتا اس سے انہیں کوئی سروکار نہیں۔ہسپتال کے آپریشن تھیٹر میں کسی کمپنی کے نمائندے کو لینز بیچنے یا داخل ہونے کی اجازت نہیں دی جاتی۔






