کراچی (رپورٹنگ آن لائن) سند ھ ہائی کورٹ کے آئینی بینچ نے مختلف علاقوں سے 20 سے زائد لاپتا افراد کی بازیابی سے متعلق درخواستوں پر ایس ایس پی ایسٹ کو ذاتی حیثیت میں طلب کرتے ہوئے 19 فروری کو مکمل رپورٹ پیش کرنے کا حکم دیدیا۔عدالت نے حراست میں لیئے گئے شہری کی پولیس مقابلے میں ہلاکت کے معاملے پرحیرت کا اظہار کیا ۔
سندھ ہائی کورٹ کے آئینی بینچ کے روبرو کراچی کے مختلف علاقوں سے 20 سے زائد لاپتا افراد کی بازیابی سے متعلق درخواستوں کی سماعت ہوئی۔ پولیس رپورٹ میں لاپتا شہری شاہ میر کا پولیس مقابلے میں مارے جانے کا انکشاف ہوا۔ تفتیشی افسر سچل پولیس نے کہا کہ شاہ میر پولیس مقابلے میں مارا جاچکا ہے۔ درخواستگزار کے وکیل نے موقف دیا کہ شاہ میر کو مقابلے کے دو روز قبل حراست میں لیا گیا۔ حراست میں لیئے گئے شہری کی پولیس مقابلے میں ہلاکت کے معاملے پر عدالت نے اظہار حیرت کیا۔
عدالت نے ارسلان، لیاقت علی ذیشان، عبدالمعیز، فہیم، رضوان، ہاشم، شبیر، تاج محمد، صبغت اللہ، امجد، محمد یوسف سمیت دہگر لاپتا افراد سے متعلق رپورٹس طلب کرلیں۔ عدالت نے ایس ایس پی ایسٹ کو ذاتی حیثیت میں طلب کرتے ہوئے 19 فروری کو مکمل رپورٹ پیش کرنے کا حکم دیدیا۔








