اسلام آباد(رپورٹنگ آن لائن)قومی اسمبلی میں اپوزیشن ارکان کی جانب سے لگائی گئی کورم کورم کی آوازیں نظر انداز کردی گئیں،کسی رکن کو کورم کی باضابطہ نشاندہی کرنے کی اجازت دیئے بغیر ڈپٹی اسپیکر نے اجلاس غیر معینہ مدت کے لئے ملتوی کردیا، دوسری جانب سے وزارت داخلہ نے تحریری جوابات میں ایوان کو آگاہ کیا ہے کہ یکم جنوری 2018سے اکتوبر 2021تک نادرا میں 7287افراد کو بھرتی کیا گیا،
وزارت داخلہ کو پاکستان سٹیزن پورٹل سے اب تک 4234 شکایات موصول ہوئی ہیں جبکہ پورٹل پر وزارت داخلہ سے متعلق3827 شکایات کو اب تک دور کیا گیا ہے،حکومت نے اسلام آباد اور راولپنڈی کے شہروں کو تربیلا ڈیم سے پانی فراہم کرنے کا منصوبہ شروع کیا ہے ، حکومت پنجاب اور وفاقی حکومت کے مابین لاگت کی تقسیم کا فیصلہ نہ ہوسکنے کے باعث منصوبے کے پی سی ون کو ابھی تک حتمی شکل نہیں دی گئی ہے۔جمعہ کو قومی اسمبلی کا اجلاس ڈپٹی اسپیکر قاسم خان سوری کی کی صدارت میں شروع ہوا، اجلاس میں رکن قومی اسمبلی عندلیب عباس کی والدہ کے انتقال پر ان کی روح کے ایصال ثواب کے لئے دعا کی گئی۔
جس کے بعد ڈپٹی اسپیکر نے وقفہ سوالات شروع کرنے کا اعلان کیا تاہم اپوزیشن ارکان نے کورم کورم کی آوازیں لگانی شروع کردیں، تاہم ڈپٹی اسپیکر نے کسی رکن کو کورم کی نشاندہی کرنے کی باضابطہ اجازت نہ دی اور اجلاس کی کاروائی غیر معینہ مدت کے لئے ملتوی کردی۔ دوسری جانب رکن اسمبلی سید جاوید حسنین کے سوال کے تحریری جواب میں وزارت داخلہ نے ایوان کو بتایا کہ یکم جنوری 2018 سے اکتوبر 2021تک نادرا میں 7287افراد کو بھرتی کیا گیاہے۔ رکن اسمبلی عبدالقادر پٹیل کے سوال کے تحریری جواب میں وزارت داخلہ نے ایوان کو بتایا کہ وزارت داخلہ کو پاکستان سٹیزن پورٹل سے اب تک 4234 شکایات موصول ہوئی ہیں،پاکستان سٹیزن پورٹل پر وزارت داخلہ سے متعلق 3827 شکایات کو اب تک دور کیا گیا ہے۔
رکن اسمبلی سید ابرار علی شاہ کے سوال کے تحریری جواب میں وزارت داخلہ نے ایوان کو بتایا کہ حکومت نے اسلام آباد اور راولپنڈی کے شہروں کو تربیلا ڈیم سے پانی فراہم کرنے کا منصوبہ شروع کیا ہے ، حکومت پنجاب اور وفاقی حکومت کے مابین لاگت کی تقسیم کا فیصلہ نہ ہوسکنے کے باعث منصوبے کے پی سی ون کو ابھی تک حتمی شکل نہیں دی گئی ہے۔رکن اسمبلی شاہدہ اختر علی کے سوال کے تحریری جواب میں وزارت داخلہ نے ایوان کو بتایا کہ جموں و کشمیر کوآپریٹیو ہاﺅسنگ سوسائٹی اسلام آباد ایک نجی ہاﺅسنگ سوسائٹی ہے اور قانون کے مطابق کسی بے قاعدگی کی صورت میں سوسائٹی کی مینیجنگ کمیٹی ذمہ دار ہے ، رجسٹرار کوآپریٹیو کی جانب سے جموں و کشمیر کوآپریٹیو ہاﺅسنگ سوسائٹی کے فراڈ کیسز کی 40 انکوائریز کا حکم دیا گیا جس میں 14 انکوائریز کی گئی ہیں جس میں 3.75ارب روپے کا خردبرد سامنے آیا ہے، اس ضمن میں ایف آئی اے کی جانب سے 12 ایف آئی آر رجسٹرڈ کی گئی ہیں









