تنویر سرور۔۔۔
لاہور ہائیکورٹ کے مسٹر جسٹس علی باقر نجفی کے روبرو ایک رٹ پٹیشن میں جمع کروائے جانے والے جواب کو غیر تسلی بخش قرار دیتے ہوئے عدالت نے کمرہ عدالت میں موجود ڈائریکٹر ایکسائز ٹیکسیشن اینڈ نارکوٹکس کنٹرول ڈیپارٹمنٹ ریجن سی لاہورقمر الحسن سجاد سے ناپسندیدگی کا اظہار کیا اور آئیندہ پیشی پر صوبائی سیکرٹری ایکسائز ٹیکسیشن اینڈ نارکوٹکس کنٹرول ڈیپارٹمنٹ پنجاب کو طلب کرلیا ہے۔

عدالت عالیہ کے روبرو شہبازاکمل جندران نے رٹ دائر کی تھی کہ سائل نے ایک استعمال شدہ گاڑی سوزوکی کلٹس خریدی ہے لیکن موٹر وہیکلز آرڈیننس 1965 کے سیکشن 32 کی کلاز ون کے تحت موٹر برانچ لاہور گاڑی کے کاغذات چیک کرنے کو تیار نہیں ہے۔جبکہ مذکورہ قانون کے سیکشن 27 کے تحت گاڑی کے کوائف بھی چیک نہیں کئے جارہے۔

حالانکہ سپریم کورٹ
PLD 2020 SC 299
میں قرار دے چکی ہے کہ رجسٹریشن سے پہلے اور رجسٹریشن کے بعد بھی گاڑی کے کوائف کی چیکنک لازمی یے۔ اپنے فیصلے میں سپریم کورٹ نے قرار دیا تھا کہ چاروں صوبوں اور اسلام آباد کے ایکسائز ڈیپارٹمنٹس اس فیصلے پر عمل۔درآمد کو یقینی بنائیں۔

تاہم ڈائیریکٹر موٹرز لاہور قمر الحسن سجاد نے سپریم کورٹ کے ان احکامات کو نظر انداز کرتے ہوئے عدالت عالیہ کے مسٹر جسٹس علی باقر نجفی کے روبرو جمع کروائے جانے والے اپنے جواب میں قرار دیا کہ گاڑی کے کوائف صرف نیو رجسٹریشن کے وقت ہی چیک کئے جاسکتے ہیں۔ اور وہ بھی اسی صورت اگر متعلقہ موٹر رجسٹرنگ اتھارٹی چاہئے تو ورنہ نہیں۔
اس پر عدالت نے ناپسندیدگی کا اظہار کرتے ہوئے 13 اپریل کومحکمے کے صوبائی کو طلب کرلیا ہے۔







