نیر بخاری 43

قرض امداد اور ادھار سے حکومتیں نہیں چلتیں ، نیئر حسین بخاری

اسلام آباد (رپورٹنگ آن لائن)سیکرٹری جنرل پیپلز پارٹی پارلیمنٹیرینز سید نیر بخاری نے کہا ہے کہ مظبوط و مستحکم پاکستان ترجیح اول بناکر مشکل فیصلے کرنے ہونگے ،قرض امداد اور ادھار سے حکومتیں نہیں چلتیں ۔ اپنے بیان میں انہوںنے کہاکہ بین الاقوامی اداروں سے بتدریج چھٹکارا حاصل کرنے کے لئے عملی اقدامات اٹھانے ہونگے ،قومی اتفاق رائے کے تحت خود دراری اختیار کرکے اپنے پاؤں پر کھڑا ہونے کی تدابیر کرنی ہونگی ۔انہوں نے کہا کہ آئینی و حکومتی سرکاری ریاستی زمہ داران کی تنخواہوں اور مراعات میں پچاس فی صد کمی کی جائے وفاقی صوبائی وزرا ممبران پارلیمان تنخواہوں اور مراعات میں رضاکارانہ چالیس فی صد کم۔وصولیاں کریں۔

انہوںنے کہاکہ حکومتی سرکاری ریاستی عدالتی زمہ داران ادارہ جاتی اخراجات میں خاطر خواہ کمی لاکر قومی خزانے پر بوجھ کم کریں ۔سیکرٹری جنرل پیپلز پارٹی سید نیر بخاری نے تجویز کیا کہ توانائی بچت کیلئے سرکاری و نجی اداروں میں سنٹرل آئیر کنڈیشنڈ اور سینٹرل ہیٹنگ سسٹم بند کئے جائیں۔انہوںنے کہاکہ ہائوسنگ فارن کرنسی سٹاک ایکسچینج ٹرانسپورٹ صنعتی کاروباری تجارتی شعبہ کو دستاویزی ٹیکس ادائیگی دائرہ کار میں لایا جائے ،نجی ہاؤسنگ سوسائٹیوں کی رہائشی تجارتی منتقلی جائیدادوں کی سرکاری فیسیں قومی خزانے میں وصول کی جائیں ۔

نیر بخاری نے کہا کہ اشرافیہ کے ہر قسم کے ریلیف ختم کرکے عوام الناس کی تکالیف کا سد باب کیا جائے ہوشربا مہنگائی کیوجہ اشیاء خوردو نوش عوام الناس کی دسترس سے باہر ہو گئی ہیں۔ انہوںنے کہاکہ افسوس ناک امر ہے وطن کے نام پر شہرت عزت دولت کمانے والے ٹیکس دینے کے لئے تیار نہیں ۔نیر بخاری نے کہا کہ معیشت کی ریڑھ کی ہڈی زرعی شعبے میں سب سے زیادہ بجٹ استعمال میں لایا جائے زراعت ترقی کیلئے کسان کاشتکار کو پٹرول ڈیزل زرعی مشینری کھاد بیج پر زیادہ سے زیادہ سبسڈی دی جائے نیر بخآری نے قومی قیادت کے مل بیٹھنے کو خوش آئیند قرار دیتے ہوئے کہا کہ صدر ہاؤس میں قومی معاملات پر وفاقی و صوبائی سطح کی مشاورت زمہ دارانہ سوچ کی عکاسی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں