خواجہ سعد رفیق 70

عمران خان ساتھیوں کی رائے سے اتفاق کریں تو مذاکرات ہو سکتے ہیں’ خواجہ سعد رفیق

لاہور (رپورٹنگ آن لائن) پاکستان مسلم لیگ (ن) کے سینئر رہنما و سابق وفاقی وزیر خواجہ سعد رفیق کا کہنا ہے کہ عمران خان سینئر ساتھیوں کی رائے سے اتفاق کریں تو مذاکرات شروع ہو سکتے ہیں۔

ایک دوسرے کو گھسیٹنے اور رگڑنے میں توانائی خرچ کرنے کے بجائے ملک کو آگے لے جانے کے طریقوں پر بات ہونی چاہیے۔انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر ایکس پر اپنے پیغام میں کہا کہ کوٹ لکھپت جیل میں قید پی ٹی آئی کے سینئر رہنمائوں کا سیاسی جماعتوں کے بیچ مذاکراتی عمل کی حمایت میں خط اہمیت کا حامل ہے۔

اگر بانی پی ٹی آئی اپنے سینئر ساتھیوں کی رائے سیاتفاق کریں توبات چیت شروع ہو سکتی ہے، محرم کے بعد بھی احتجاجی تحریک کامیاب نہیں ہو سکتی، موسم کی شدت، پی ٹی آئی کا نہایت کمزور تنظیمی ڈھانچہ اور اندرونی گروپنگ، ریاستی اداروں کا ایکا متوقع احتجاجی تحریک کی ناکامی کی بڑی وجوہات ہیں۔

مسلم لیگ (ن) کے سینئر رہنما کا کہنا تھا کہ مکالمے کے ذریعے تلخی میں کمی لانے اور محاذ آرائی بتدریج کم کرنے کے طریقوں پر بغیر پیشگی شرائط بات چیت ہونی چاہیے، پاکستان کو نئے اور وسیع ترمیثاق جمہوریت کی ضروت ہے، اس پر اتفاق رائے حاصل کیے بغیر کوئی بات چیت نتیجہ خیز نہیں ہو سکتی۔

خواجہ سعد رفیق نے کہا کہ حکومت اور اپوزیشن میں موجود سیاسی قوتیں مقبولیت کے پیمانے بدلتے رہنے کے باوجود سیاسی حقیقت ہیں، اسی طرح اسٹیبلشمنٹ کی طاقت سے انکار بھی حقیقت سے انکار ہے۔ان کا مزید کہنا تھا کہ اختلافات اور پیچیدہ مسائل کا حل جو بھی نکلا مرحلہ وار ہی ہو گا، ایک دوسرے کو گھسیٹنے اور رگڑنے میں توانائی خرچ کرنے کے بجائے ملک کو آگے لے جانے کے طریقوں پر بات ہونی چاہیے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں