وزارت عظمیٰ 64

عراق کے امکانی منتخب وزیر اعظم نور المالکی نے حکومت سازی میں امریکی مداخلت مسترد کر دی

بغداد (رپورٹنگ آن لائن)عراق میں وزارت عظمیٰ کے سب سے اہم امیدوار نورالمالکی نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ان دھمکیوں کو مسترد کر دیا ہے جو انہوں نے عراقی نظام میں امریکی منشاء اور خواہش کے مطابق وزیر اعظم منتخب نہ کرنے کی صورت میں عراق کی جاری امداد بند کرنے کے حوالے سے دی تھیں۔العربیہ کے مطابق صدر ٹرمپ نے گزشتہ روز اس بارے میں کہا تھا کہ اگر عراق میں نور المالکی کو وزیر اعظم منتخب کیا گیا تو ان کا ملک عراق کی امداد کو ختم کر دے گا۔

سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ایکس’ پر نور المالکی نے لکھا ہم اسے عراق کے جمہوری نظام کی خلاف ورزی سمجھتے ہیں۔ جس کا امریکہ کو کوئی حق نہیں ہے اس لیے مسترد کرتے ہیں۔نور المالکی نے ‘ایکس’ پر اپنے ردعمل میں لکھا ہم امریکہ کی طرف سے اس کھلی مداخلت کو مکمل طور پر مسترد کرتے ہیں جو امریکہ نے عراق کے اندرونی معاملات میں کرنے کی کوشش کی ہے۔ یہ ایران کے جمہوری نظام کے خلاف ہے جو 2003 کی امریکی مداخلت کے بعد سے بروئے کار ہے۔

نور المالکی نے اپنی پوسٹ میں یہ بھی کہا کہ وہ عراقی عوام کے بہترین مفاد اور کامیابیوں کے لیے اپنے کام کو آخر وقت تک جاری رکھیں گے۔یاد رہے نور المالکی دو بار عراق کے وزیر اعظم منتخب ہوچکے ہیں۔ ان کی وزارت عظمیٰ کی مدت 2006 سے 2014 تک رہی تاہم انہیں 2014 میں امریکی دباؤ کے بعد اقتدار سے الگ ہونا پڑا تھا۔75 سالہ نور المالکی عراق کے سینیئر اور ذہین ترین سیاستدانوں میں سے ایک ہیں۔ وہ طویل عرصے سے عراقی سیاست کے مرکزی کردار ہیں اور ان کی اہمیت کو کوئی بھی مخلوط حکومت نظر انداز نہیں کر سکتی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں