سندھ ہائیکورٹ 81

عدالت کا گلشن روفی سوسائٹی کے متاثرین کو پلاٹس نہ دینے پر نیب پر اظہار برہمی

کراچی(رپورٹنگ آن لائن) سندھ ہائی کورٹ کے آئینی بینچ نے گلشن روفی سوسائٹی کے متاثرین کو پلاٹس نہ دینے پر نیب اور دیگر پر اظہار برہمی کرتے ہوئے نیب کے تفتیشی افسر کو آئندہ سماعت پر پیش رفت رپورٹ کے ساتھ طلب کرلیا۔

سندھ ہائیکورٹ کے آئینی بینچ میں گلشن روفی اسکیم 33 کے 650 متاثرین کو پلاٹس کی عدم فراہمی سے متعلق درخواست کی سماعت ہوئی ۔دوران سماعت سیکڑوں بزرگ متاثرین عدالت پہنچ گئے ۔زیادہ رش لگ جانے سے وجہ سے عدالت کا متاثرین کا کیس نمبر سے پہلے سماعت کے لیے اٹھا لیا۔عدالتی احکامات کے باوجود نیب کا تفتیشی افسر پیش نہیں ہوا ۔عدالت نے گلشن روفی سوسائٹی کے متاثرین کو پلاٹس نہ دینے پر نیب اور دیگر پر اظہار برہمی کرتے ہوئے نیب کے تفتیشی افسر کو آئندہ سماعت پر پیش رفت رپورٹ کے ساتھ طلب کرلیا اور مزید سماعت 16 دسمبر تک ملتوی کردی ۔

ملزمان بلڈرز میں رحمت الہی، سابق سنیٹر قاسم لاسی اور منظور روفی شامل ہیں ۔درخواست گزار کے وکیل ملک الطاف جاوید نے موقف اختیار کیا ہے کہ عدالتی احکامات کے باجود 8 سو سے زائد متاثرین کو پلاٹ نہیں کیے جارہے۔الاٹیز نے گلشن روفی اسکیم 33 سیکٹر 21 بی، 19 بی، 6 ڈی اور 6 سی میں پلاٹس بک کرائے تھے۔سندھ ہائیکورٹ نے 2020 میں بلڈر کو الاٹیز کو پلاٹ دینے کا حکم دیا تھا۔عدالت نے نیب کو پابند کیا تھا الاٹیز کو پلاٹ فراہم کرنے میں معاونت کریں۔عدالتی احکامات کے باجود متاثرین کو اب تک پلاٹ نہیں گئے۔

سندھ ہائیکورٹ کے فیصلے پر عملدر آمد کا حکم دیا جائے۔واضح رہے کہ عدالت نے گزشتہ سماعت بلڈرز کی جانب سے متاثرین کو پلاٹس نہ دینے پر تشویش کا اظہار کیا تھا۔عدالت نے اپنے ریمارکس میں کہا تھا کہ 2020 میں کہا گیا کہ متاثرین کو پلاٹس فراہم کردئیے جائیں گے ۔پانچ سال گزار جانے باوجود متاثرین اپنے پلاٹس حاصل کرنے کی کوشش کررہے ہیں ۔متاثرین میں عمر رسیدہ افراد بھی شامل ہیں جو چاہتے ہیں انکا مسئلہ جلد حل ہو۔آئندہ سماعت تک متاثرین کو پلاٹس کا قبضہ نہیں ملا تو عبوری ضمانت واپس لے لی جائے گی ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں