کراچی(رپورٹنگ آن لائن) سندھ ہائی کورٹ نے شہری شرافت حسین کے خلاف سفری پابندیاں ختم کرکے پاسپورٹ واپس کرنے کا حکم دے دیا ۔عدالت نے ہدایت کی کہ درخواست گزار کا نام پاسپورٹ کنٹرول لسٹ، پی این آئی ایل اور ای سی ایل سے نکالا جائے۔
سندھ ہائی کورٹ میں کالعدم تنظیم سے تعلق کے شبے میں شہری کے خلاف سفری پابندیوں کے معاملہ پر درخواست کی سماعت ہوئی ۔درخواست گزار نے موقف اختیار کیا کہ 16 جولائی کو قطر سے واپس پہنچنے پر ایف آئی اے نے حراست میں لیا۔حکام نے رہائی کے وقت پاسپورٹ اپنی تحویل میں لے لیا۔میرے خلاف کسی عدالت میں کوئی مقدمہ زیر التوا نہیں۔سفری پابندیوں سے مالی نقصان اور کاروباری مشکلات کا شکار ہیں۔ایف آئی اے نے عدالت میں موقف اختیار کیا کہ درخواست گزار کا نام کالعدم تنظیم سے تعلق کے شبے میں پابندیوں کی فہرست میں شامل کیا۔درخواست گزار کے خلاف سیکیورٹی اداروں کی سفارش پر سفری پابندیاں عائد کی گئیں۔عدالت نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ متعدد مواقع دینے کے باوجود درخواست گزار کے خلاف شواہد پیش نہیں کئے گئے۔صرف خفیہ اور غیر مصدقہ رپورٹس کی بنیاد پر کسی شہری کے بنیادی حقوق محدود نہیں کئے جاسکتے۔
شہریوں کی آزادانہ نقل وحرکت پر پابندی صرف شفاف طریقہ کار کے تحت لگائی جاسکتی ہے۔درخواست گزار کی خلاف کالعدم تبظیم سے تعلق کا کوئی مواد موجود نہیں۔سندھ ہائی کورٹ نے شہری شرافت حسین کے خلاف سفری پابندیاں ختم کرکے پاسپورٹ واپس کرکے اس کا نام نام پاسپورٹ کنٹرول لسٹ، پی این آئی ایل اور ای سی ایل سے نکالنے کا حکم دے دیا ۔عدالت نے ریمارکس دیئے کہ احکامات پر عملدرآمد نہ ہونے کی صورت میں توہین عدالت کی کارروائی کی جائے گی ۔









