بیجنگ (رپورٹنگ آں لائن) بین الاقوامی شخصیات کا کہنا ہے کہ چینی صدر شی جن پھنگ کا دورہ امریکہ انتہائی اہمیت کا حامل ہے اور اس سے بین الاقوامی برادری میں مزید اعتماد پیدا ہوا ہے۔
امریکی اسکالر نیتھن اسٹاؤٹ کا خیال ہے کہ صدر شی جن پھنگ احترام، انصاف اوربرابری پر زور دیتے ہیں۔ جیسا کہ صدر شی جن پھنگ نے فرمایا کہ اختلافات کا احترام کرتے ہوئے اتفاق رائے کی جستجو کرنا دونوں فریقوں کے درمیان تعاون کو فروغ دینے میں مددگار ثابت ہوگا۔ چین میں چلی کے سابق سفیر جارج ہائنے نے کہا کہ چین اور امریکہ کے رہنماؤں کے درمیان متواتر تبادلوں اور بات چیت سے ظاہر ہوتا ہے کہ چین امریکہ تعلقات ماضی کے برعکس نئی تبدیلیوں سے گزر رہے ہیں۔
کینیڈا کی تھامسن ریورز یونیورسٹی میں شعبہ فلسفہ، تاریخ اور سیاست کے سربراہ ڈاکٹر رابرٹ ہینلون کا ماننا ہے کہ چینی اور امریکی رہنماؤں کے درمیان ہونے والی ملاقات نے اعتماد اور باہمی افہام و تفہیم کو بڑھانے کی کوششوں کا پیغام پہنچایا۔
دنیا یہ سننے کی منتظر ہے کہ امریکہ اور چین مل کرآگے بڑھ سکتے ہیں۔ روسی اکیڈمی آف سائنسز میں انسٹی ٹیوٹ آف چائنا اینڈ ماڈرن ایشیا کے ڈائریکٹر کیرل بابائیف نے کہا کہ چین اور امریکہ کے درمیان اقتصادی اور تجارتی میدان میں طے پانے والے اتفاق رائے سے چین اور عالمی معیشتوں کو فائدہ پہنچے گا۔
جنوبی افریقہ کی یونیورسٹی آف جوہانسبرگ میں افریقہ-چائنا اسٹڈیز سینٹر کے محقق سیزو نکالا کا خیال ہے کہ چین اور امریکہ کے رہنماؤں کے درمیان ہونے والی اس ملاقات کے دور رس اثرات مرتب ہوں گے۔ صدر شی جن پھنگ کی طرف سے ایک لاکھ امریکی نوجوانوں کو چین کے دورے کی دعوت ،چین امریکہ تعلقات کے لیے بہت اہمیت کی حامل ہے۔ یہ نوجوان مستقبل کے رہنما ہوں گے، اور افرادی و ثقافتی تبادلے ممالک اور حکومتوں کے درمیان دوستانہ تعلقات کی بنیاد ہیں









