چینی صدر 58

عالمی سروے نتائج کے مطابق چین کاگلوبل سولائزیشن انیشی ایٹو عالمی استحکام کے لیے اہم قرار

بیجنگ (رپورٹنگ آن لائن)عالمی سطح پر پیچیدہ اور غیر یقینی حالات کے تناظر میں چین کے گلوبل سولائزیشن انیشی ایٹو کو دنیا میں استحکام کے لیے ایک مثبت پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔ ایک بین الاقوامی سروے کے نتائج کے مطابق مختلف ممالک کے عوام نے اس انیشی ایٹو کے بنیادی نظریات کو موجودہ عالمی صورتحال میں زیادہ عملی اور اہم قرار دیا ہے۔

یہ سروے چائنا گلوبل ٹیلی وژن نیٹ ورک اور چین کی ایک معروف جامعہ رین مین یونیورسٹی کے تحقیقی ادارے کی جانب سے مشترکہ طور پر کیا گیا، جس میں دنیا کے 41 ممالک کے بارہ ہزار سے زائد افراد کی آراء شامل کی گئیں۔ نتائج کے مطابق شرکاء کی بڑی تعداد نے تہذیبوں کے تنوع کے احترام اور انسانیت کی مشترکہ اقدار کے فروغ جیسے اصولوں کو عالمی استحکام کے لیے ضروری قرار دیا۔

سروے کے مطابق تقریباً 90 اعشاریہ 8 فیصد افراد کا خیال ہے کہ تہذیبوں کے تنوع کا احترام عالمی برادری کے لیے ایک بنیادی اصول ہونا چاہیے۔ اسی طرح 77 اعشاریہ 2 فیصد شرکاء نے اس بات سے اتفاق کیا کہ کوئی بھی تہذیب دوسری تہذیب سے برتر نہیں ہے، جبکہ 87 اعشاریہ 7 فیصد افراد کے مطابق تمام تہذیبوں کے ساتھ برابری اور احترام کا رویہ اختیار کیا جانا چاہیے۔

نتائج میں یہ بات بھی سامنے آئی کہ دنیا کے مختلف خطوں کے لوگ امن، ترقی، انصاف، جمہوریت اور آزادی کو مشترکہ انسانی اقدار سمجھتے ہیں۔ تقریباً 91 اعشاریہ 8 فیصد افراد نے اس خیال کی حمایت کی کہ ممالک کو تصادم کے بجائے باہمی فائدے پر مبنی تعاون کو ترجیح دینی چاہیے۔

سروے میں شامل 87 اعشاریہ 4 فیصد افراد کے مطابق مختلف تہذیبوں کے درمیان مکالمہ عالمی تنازعات کو کم کرنے اور عالمی امن کے فروغ میں مؤثر کردار ادا کر سکتا ہے۔ اسی طرح 89 اعشاریہ 5فیصد شرکاء کا کہنا تھا کہ تہذیبوں کے درمیان تبادلہ اور روابط عالمی تعاون کے لیے مضبوط بنیاد فراہم کرتے ہیں۔یہ سروے سیمپل ڈیٹا بیس کے ذریعے ایک آن لائن سروے کی شکل میں کیا گیا، جس میں سیمپل کو عمر اور جنس کی تقسیم کے مطابق رکھا گیا۔ اس سروے میں بڑے ترقی یافتہ ممالک اور گلوبل ساوتھ کے نمائندہ ممالک کا احاطہ کیا گیا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں