سرگودھا(رپورٹنگ آن لائن) امیر جماعت اسلامی سینٹر سراج الحق نے کہا ہے کہ طاغوتی طاقتوں نے نیو ورلڈ آرڈ کے نام پر مسلم ممالک کو غلام بنالیا، بیرونی ایجنڈہ پر چلنے والے حکمران ملک و قوم سے مخلص نہیں، ہمارے حکمران اور ادارے بھی خود مختار نہیں، عدالتوں کے دروازے عوامی فریاد پر نہیں، سونے کی چابی سے کھلتے ہیں، دنیا میں حق و باطل کا معرکہ برپا ہے، دجالی پیرو کار انسانی ذہنوں کو اپنا اسیر کر چکے ہیں، ہمیں اپنا فیصلہ کرنا ہے کہ ہم کہاں کھڑے ہیں، ا
ن خیالات کا اظہار انہوں نے دورہ سرگودھا کے موقع پر نومنتخب امیر ضلع سرگودھا محمد اویس قاسم تلہ کی تقریب حلف برداری سے خطاب کرتے ہوئے کیا، انہوں نے کہا کہ تبدیلی کے نام پر اقتدار میں آنے والے عمران خان نے ملک و قوم کا وقار رہن رکھ دیا، ملکی ادارے، پارلیمنٹ اور صاحب اقتدار طبقہ خود بھی آزاد نہیں، قسمت کے فیصلے اغیار کو سونپ دیئے گئے، انہوں نے مزید کہا کہ ملک میں چوروں اور لٹیروں کا نظام ہے، کوئی طبقہ محفوظ نہیں، قوم کو سودی نظام کی ہتھکڑیوں میں جکڑ کر ورلڈ بنک اور آئی ایم ایف کا غلام بنا دیا گیا، ظلم کی انتہااسٹیٹ بنک کو بھی عمران خان نے آئی ایم ایف کے سپرد کرد، ہمارے فیصلے باہر سے آتے ہیں،
انہوں نے کہا کہ عدالتوں میں انگریز، طاغوت اور استعمار کا نظام ہے، انصاف نہیں ملتا،جج ریٹائر ہو کر وعدہ معاف گواہ بن کر اپنی غلطیوں کا اعتراف کرتا ہے اور رونے پر مجبور ہے، انہوں نے کہا مسلم لیگ ن، پیلپز پارٹی اور پی ٹی آئی تین نہیں ایک ہی جماعت ہیں جو ایک ہی ایجنڈہ پر چل رہی ہیں، امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے پی ٹی آئی کے سیاسی کردار پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ پی ٹی آئی نے ملک میں گالیوں، بدتمیزی اور عدم برداشت کا کلچر فروغ دے کر نسل نو کا خلاق تباہ کر دیا، اچھا ہوا کہ عمران خان کو حکومت مل گئی اور قوم نے ان کا باطن دیکھ لیا ورنہ انہیں جنید بغدادی سے تشبیہ دی جاتی، قوم کو عمران خان کی تبدیلی کا مطلب سمجھ آگیا، صرف ایوان اقتدار میں تبدیلی آئی، ملک و قوم کو تباہ کر دیا گیا،
عمران خان یاد رکھیں کہ صرف ہاتھ میں تسبیح گھمانے سے ملک کو ریاست مدینہ کی شکل نہیں دی جاسکتی اور ملک میں رائج طبقاتی و دجالی نظام کے خاتمہ تک حقیقی تبدیلی کسی بھی صورت ممکن نہیں ہوسکتی، انہوں نے کہا۔کہ جماعت اسلامی 22 سال سے شرعی عدالت میں سودی نظام کے خلاف جنگ لڑ رہی ہے جبکہ پی ٹی آئی، مسلم لیگ ن اور پیپلز۔پارٹی اس کی مخالف ہیں، ماضی میں بھی اقتدار میں آنے والی جمہوری جماعتوں نے اسلامی نظام کی راہوں میں رکاوٹیں کھڑی کرکے غداری کی اور موجودہ حکومت بھی یہی کردار ادا کر رہی ہے، انہوں نے کہا کہ پاکستان بچے دنیا میں آتے ہی کرپٹ نظام کی وجہ سے آنکھ کھولنے سے پہلے قرض کے زیر بار ہوتا ہے، گوادسمبر میں سقوط ڈھاکہ ہمارے سینے پر ایک ایسا زخم ہے جو آج تک مندمل نہیں ہوسکا،
انہوں نے کہاکہ بلوچستان میں بارڈ ٹریک پابندی کے خلاف دھرنا جاری، بلوچی اپنے حقوق کا مطالبہ کر رہے ہیں، صدر، ویزراعظم اور افواج کے سربراہان سقوط ڈھاکہ جیسے سانحات سے بچنے کیلئے بلوچی بھائیوں کو ان کا حق دیں، بلوچی آئین سے متصادم نہیں، حکومت نے گوادر والوں کے مطالبات تسلیم نہ کئے تو باقی صوبے ان کے ساتھ کھڑے ہوں گے،
انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی نظام کی اصلاح اور اجتماعی حقوق کے تحفظ کی جدوجہد کر رہی ہے، ملک میں اسلامی نظام کی راہیں ہموار کرنے کے لئے مصروف عمل ہیں اور یہ انقلاب سرگودھا سے آئے گا۔









