لاہور(ر پورٹنگ آن لائن)وزیر صحت پنجاب ڈاکٹریاسمین راشدکی زیر صدارت سول سیکرٹریٹ کے دربارہال میں کابینہ کمیٹی برائے انسدادڈینگی کا اجلاس منعقد ہوا۔اس موقع پر صوبائی وزیر اوقاف سید سعیدالحسن شاہ،سیکرٹری محکمہ پرائمری اینڈ سیکنڈری ہیلتھ کئیرعمران سکندربلوچ،پروفیسرجاویدچوہدری ودیگرافسران نے شرکت کی۔صوبائی وزیر صحت ڈاکٹریاسمین اورصوبائی وزیر اوقاف نے اجلاس کے دوران صوبہ بھرمیں انسدادڈینگی سرگرمیوں کا جائزہ لیا۔سیکرٹری صحت ودیگرافسران نے وزیر صحت کو انسدادڈینگی سرگرمیوں کی تفصیلات سے آگاہ کیا۔صوبائی وزیر صحت ڈاکٹریاسمین راشدنے کہاکہ پنجاب کے سرکاری تعلیمی اداروں اور ہسپتالوں میں انسدادڈینگی سرگرمیوں کو تیزکردیاگیاہے۔پنجاب کے تعلیمی اداروں میں زیروآواریا خصوصی زیروپیریڈ کے ذریعے بچوں میں ڈینگی سے متعلق آگاہی دی جائے۔
سپیشل برانچ کی نشاندہی پر تمام مقامات پر ڈینگی لارواکی تلفی کو ہرصورت یقینی بنایاجائے۔ڈاکٹریاسمین راشدنے کہاکہ پنجاب کی انتظامیہ صوبہ بھرمیں کورونااور ڈینگی پر قابو پانے کیلئے بہت محنت کررہی ہے۔تمام کمشنرزاور ڈپٹی کمشنرزڈی ایگ کی سفارشات پر عملدرآمدکویقینی بنائیں۔شہری اپنے گھروں،دوکانوں اور پانی کھڑارہنے والے مقامات کی صفائی ستھرائی کا خاص خیال رکھیں۔صوبائی وزیرصحت نے کہاکہ پنجاب کے تمام مزارات اور مساجدمیں انسدادڈینگی کارروائیوں کو یقینی بنایاجائے۔پنجاب کی تمام مساجدمیں جمعہ کے خطبات کے دوران ڈینگی سے بچاؤ سے متعلق آگاہی لیکچردئیے جائیں گے۔ڈاکٹریاسمین راشدنے کہاکہ پی ایچ اے گرین بیلٹس اور پارکوں کی صفائی کو یقینی بنائے۔عوام کیلئے ڈینگی بارے مؤثرآگاہی مہم چلائی جارہی ہے۔مون سون سیزن کے دوران انسدادڈینگی ٹیمیں زیادہ متحرک رہیں۔صوبائی وزیرصحت نے مزیدکہاکہ صوبہ بھرمیں انسدادڈینگی سرگرمیوں کی مانیٹرنگ کررہے ہیں۔تمام محکمہ جات انسدادڈینگی کے حوالہ سے جاری کردہ گائیڈلائینز پرعملدرآمدیقینی بنائیں۔مانیٹرنگ،سرویلنس اور رپورٹنگ کے معیارکوبہتربنانے کی ضرورت ہے۔
سپیشل برانچ کی رپورٹ کے مطابق متعلقہ اضلاع کی انتظامیہ فوری طورپر کوتاہیوں کو دورکریں۔ڈینگی کے زیادہ کیسزوالے اضلاع کو الرٹ رہناہوگا۔پنجاب کے تمام تعمیراتی مقامات پرصفائی ستھرائی کو یقینی بنایاجائے۔صوبائی وزیر اوقاف سیدسعیدالحسن شاہ نے کہاکہ پنجاب کی تمام مساجداور مزارات پر صفائی ستھرائی کا خاص خیال رکھاجارہاہے۔ہم سب کو مل کر ڈینگی کے خاتمہ کیلئے محنت کرنی ہوگی۔









